تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 14

لَا تَدۡعُوا الۡیَوۡمَ ثُبُوۡرًا وَّاحِدًا وَّ ادۡعُوۡا ثُبُوۡرًا کَثِیۡرًا ﴿۱۴﴾
آج ایک ہلاکت کو مت پکارو، بلکہ بہت زیادہ ہلاکتوں کو پکارو۔ En
آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو
En
(ان سے کہا جائے گا) آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی اموات کو پکارو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مگر یہ دعا اور استغاثہ ان کے کسی کام آئیں گے نہ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکیں گے بلکہ ان سے کہا جائے گا: ﴿ لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا آج تم ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں (ہلاکتوں) کو پکارو! یعنی اگر تم اس سے بھی کئی گنا زیادہ چیختے چلاتے رہو تو تمھیں حزن و غم کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وليس ذلك الدعاء والاستغاثة بنافعةٍ لهم ولا مغنيةٍ من عذاب الله، بل يُقالُ لهم: {لا تدعوا اليوم ثُبوراً واحداً وادْعوا ثُبوراً كثيراً}؛ أي: لو زاد ما قلتُم أضعاف أضعافِهِ؛ ما أفادكم إلاَّ الهمَّ والغمَّ والحزنَ.