تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 13

وَ اِذَاۤ اُلۡقُوۡا مِنۡہَا مَکَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیۡنَ دَعَوۡا ہُنَالِکَ ثُبُوۡرًا ﴿ؕ۱۳﴾
اور جب وہ اس کی کسی تنگ جگہ میں آپس میں جکڑے ہوئے ڈالے جائیں گے تو وہاں کسی نہ کسی ہلاکت کو پکاریں گے۔ En
اور جب یہ دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں (زنجیروں میں) جکڑ کر ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے
En
اور جب یہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں مشکیں کس کر پھینک دیئے جائیں گے تو وہاں اپنے لئے موت ہی موت پکاریں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ اور جب انھیں جکڑ کر جہنم میں کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا۔ یعنی عذاب کے وقت، جہنم کے عین وسط میں ایک بہت ہی تنگ جگہ اور بھیڑ میں، بیڑیوں اور زنجیروں میں باندھ کر ڈال دیا جائے گا۔ جب یہ اس منحوس جگہ پر پہنچیں گے اور انھیں بدترین حبس کا سامنا کرنا پڑے گا ﴿ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا تو اس وقت وہ اپنے لیے موت، رسوائی اور فضیحت کو پکاریں گے۔ انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ ظالم اور حد سے بڑھنے والے ہیں اور خالق کائنات نے انھیں ان کے اعمال کی پاداش میں اس جگہ بھیج کر انصاف کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإذا أُلْقوا منها مكاناً ضيِّقاً مقرَّنينَ}؛ أي: وقت عذابهم وهم في وسطها جمعٌ في مكان، بين ضِيق المكان وتزاحُم السُّكان وتقرِينِهم بالسَّلاسل والأغلال؛ فإذا وَصَلوا لذلك المكان النحس وحُبِسوا في أشرِّ حبس؛ {دَعَوْا هنالك ثُبوراً}: دعوا على أنفسِهِم بالثُّبور والخزي والفضيحةِ، وعلموا أنَّهم ظالمونَ معتدون، قد عَدَلَ فيهم الخالقُ حيث أنزلهم بأعمالهم هذا المنزل.