تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 15

قُلۡ اَذٰلِکَ خَیۡرٌ اَمۡ جَنَّۃُ الۡخُلۡدِ الَّتِیۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ ؕ کَانَتۡ لَہُمۡ جَزَآءً وَّ مَصِیۡرًا ﴿۱۵﴾
کہہ دے کیا یہ بہتر ہے یا ہمیشگی کی جنت، جس کا متقی لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے، وہ ان کے لیے بدلہ اور ٹھکانا ہو گی۔ En
پوچھو کہ یہ بہتر ہے یا بہشت جاودانی جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ ہے۔ یہ ان (کے عملوں) کا بدلہ اور رہنے کا ٹھکانہ ہوگا
En
آپ کہہ دیجیئے کہ کیا یہ بہتر ہے یا وه ہمیشگی والی جنت جس کا وعده پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے، جو ان کا بدلہ ہے اور ان کے لوٹنے کی اصلی جگہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ان کی حماقت اور ان کے نفع کی بجائے نقصان کو اختیار کرنے کو بیان کرتے ہوئے ان سے کہہ دیجیے! ﴿ اَذٰلِكَ یعنی وہ عذاب جو میں نے تمھارے لیے بیان کیا ہے﴿ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْ٘مُتَّقُوْنَ بہتر ہے یا وہ ہمیشگی والی جنت، جس کا وعدہ متقین سے کیا گیا ہے؟ جن کو تقویٰ نے بڑھا دیا ہے، پس جو کوئی تقویٰ قائم کرتا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔﴿كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً ہو گی وہ ان کے لیے بدلہ۔ یعنی متقین کے تقویٰ کی جزا کے طور پر ﴿ وَّمَصِیْرًا اور ان کا ٹھکانا ہو گی، جس کی طرف وہ لوٹیں گے جہاں وہ ابدالآباد تک رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قُلْ لهم مبيِّناً لسفاهة رأيهم واختيارهم الضارِّ على النافع: {أذلك}: الذي وَصَفْتُ لكم من العذاب {خيرٌ أم جنَّةُ الخُلْدِ التي وُعِدَ المتَّقون}: التي زادُها تقوى الله؛ فمن قام بالتقوى؛ فالله قد وَعَدَه إيَّاها، {كانت لهم جزاءً}: على تقواهم، {ومصيراً}: موئلاً يرجعون إليها، ويستقرُّون فيها، ويخلُدون دائماً أبداً.