تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 12

اِذَا رَاَتۡہُمۡ مِّنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ سَمِعُوۡا لَہَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیۡرًا ﴿۱۲﴾
جب وہ انھیں دور جگہ سے دیکھے گی تو وہ اس کے لیے سخت غصے کی اور گدھے کی سی آواز سنیں گے۔ En
جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے گی (تو غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اس کے جوش (غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے
En
جب وه انہیں دور سے دیکھے گی تو یہ اس کا غصے سے بپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭؔ بَعِیْدٍ جب وہ (آگ) ان کو دیکھے گی دور کی جگہ سے۔ یعنی اس سے پہلے کہ وہ جہنم میں پہنچیں اور جہنم ان کو وصول کرے﴿ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وہ (اپنے اوپر) اس کے غیظ و غضب کی آوازیں سنیں گے ﴿ وَّزَفِیْرًا اور دھاڑنا (سنیں گے)۔ کہ جس سے صدمے اور خوف کی وجہ سے کلیجے پھٹ جائیں گے اور دل پارہ پارہ ہو جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی خوف اور دہشت کے مارے مر ہی جائے۔ جہنم اپنے خالق کے غضب کی وجہ سے ان پر غضب ناک ہو گی، ان کے کفر اور برائی کی کثرت کی وجہ سے جہنم کے شعلے اور زیادہ ہو جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إذا رأتْهُم من مكانٍ بعيدٍ}؛ أي: قبل وصولهم ووصولها إليهم؛ {سمعوا لها تغيُّظاً}: عليهم {وزفيراً}: تقلقُ منهم الأفئدةُ، وتتصدَّعُ القلوبُ، ويكادُ الواحدُ منهم يموتُ خوفاً منها وذُعراً، قد غضبتْ عليهم لغضَبِ خالِقِها، وقد زاد لهبُها لزيادِة كفرهم وشرهم.