تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفرقان (25) — آیت 11

بَلۡ کَذَّبُوۡا بِالسَّاعَۃِ ۟ وَ اَعۡتَدۡنَا لِمَنۡ کَذَّبَ بِالسَّاعَۃِ سَعِیۡرًا ﴿ۚ۱۱﴾
بلکہ انھوںنے قیامت کو جھٹلا دیا اور ہم نے اس کے لیے جو قیامت کو جھٹلائے ، ایک بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ En
بلکہ یہ تو قیامت ہی کو جھٹلاتے ہیں اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے
En
بات یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں اور قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ ان تمام اعتراضات و اقوال کا فساد واضح ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی آگاہ فرما دیا ہے کہ ان کی طرف سے یہ تمام اعتراضات طلب حق کی خاطر صادر ہوئے ہیں نہ دلیل کی پیروی کے لیے بلکہ یہ تمام اعتراضات انھوں نے تعنت، ظلم اورتکذیب حق کی وجہ سے كيے ہیں، انھوں نے وہی بات کہی جو ان کے دل میں تھی بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ بلکہ انھوں نے قیامت کی تکذیب کی۔ اور تکذیب کرنے والے اور اعتراض کے لیے لغزشیں تلاش کرنے والے شخص کے لیے جس کا مقصد اتباع حق نہیں ہوتا،ہدایت کا کوئی راستہ نہیں اور نہ اس کے ساتھ بحث کرنے میں کوئی فائدہ ہے اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اس پر عذاب نازل کر دیا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًا اور ہم نے قیامت کی تکذیب کرنے والوں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کی ہے۔ یعنی بڑی آگ جس کے شعلے بہت زیادہ بھڑک رہے ہوں گے، جہنمیوں پر سخت غیظ و غضب ظاہر کرے گی اور اس کی پھنکار بہت شدید اور خوف ناک ہوگی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا كانت تلك الأقوالُ التي قالوها معلومةَ الفسادِ؛ أخبر تعالى أنَّها لم تصدُرْ منهم لطلبِ الحقِّ ولا لاتِّباع البرهان، وإنما صدرت منهم تعنُّتاً وظلماً وتكذيباً بالحق، فقالوا ما في قلوبهم من ذلك، ولهذا قال: {بل كذَّبوا بالساعةِ}: والمكذِّبُ المتعنِّتُ الذي ليس له قصدٌ في اتِّباع الحق لا سبيلَ إلى هدايتِهِ ولا حيلةَ في مجادلتِهِ، وإنَّما له حيلةٌ واحدةٌ، وهي نزولُ العذاب به؛ فلهذا قال: {وأعْتَدْنا لمن كَذَّبَ بالساعةِ سعيراً}؛ أي: ناراً عظيمةً قد اشتدَّ سعيرُها وتغيَّظَتْ على أهلها واشتدَّ زفيرُها.