اللہ تعالیٰ تو ایسا بابرکت ہے کہ اگر چاہے تو آپ کو بہت سے ایسے باغات عنایت فرما دے جو ان کے کہے ہوئے باغ سے بہت ہی بہتر ہوں جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہوں اور آپ کو بہت سے (پختہ) محل بھی دے دے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کو اس دنیا میں خیر کثیر سے نوازنے کی قدرت رکھتا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ تَبٰرَكَالَّذِیْۤاِنْشَآءَجَعَلَلَكَخَیْرًامِّنْذٰلِكَ ﴾”بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو آپ کے لیے ان سے بہتر چیزیں کر دے۔“ یعنی ان چیزوں سے بھی بہتر جن کا انھوں نے ذکر کیا ہے پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتٍتَجْرِیْمِنْتَحْتِهَاالْاَنْ٘هٰرُ١ۙوَیَجْعَلْلَّكَقُصُوْرًا ﴾”باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور کردے وہ آپ کے لیے محلات۔“ یعنی بلند اور آراستہ محل۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں مگر چونکہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی حقیر چیز ہے، اس لیے وہ اپنے انبیاء و اولیاء کو صرف اتنی ہی دنیا عطا کرتا ہے جتنی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے اور ان کے دشمنوں کے اعتراضات کہ انھیں بہت زیادہ رزق سے کیوں نہیں نوازا گیا، محض ظلم اور جسارت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا أخبر أنه قادر على أن يعطيك خيراً كثيراً في الدُّنيا، فقال: {تبارك الذي إن شاء جَعَلَ لك خيراً من ذلك}؛ أي: خيراً مما قالوا، ثم فسَّره بقوله: {جنَّاتٍ تَجْري من تَحْتِها الأنهار ويَجْعَلْ لك قُصوراً}: مرتفعةً مزخرفةً؛ فقدرتُهُ ومشيئتُهُ لا تقصُرُ عن ذلك، ولكنَّه تعالى لما كانت الدُّنيا عنده في غاية البعد والحقارة؛ أعطى منها أولياءه ورسله ما اقتضتْه حكمتُه منها، واقتراحُ أعدائهم بأنَّهم هلاَّ رُزِقوا منها رزقاً كثيراً جدًّا ظلمٌ وجراءةٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔