ترجمہ و تفسیر — سورۃ الفرقان (25) — آیت 10

تَبٰرَکَ الَّذِیۡۤ اِنۡ شَآءَ جَعَلَ لَکَ خَیۡرًا مِّنۡ ذٰلِکَ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۙ وَ یَجۡعَلۡ لَّکَ قُصُوۡرًا ﴿۱۰﴾
بہت برکت والا ہے وہ کہ اگر چاہے تو تیرے لیے اس سے بھی بہتر بنا دے ایسے باغات جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہیں اور تیرے لیے کئی محل بنا دے۔ En
وہ (خدا) بہت بابرکت ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لئے اس سے بہتر (چیزیں) بنا دے (یعنی) باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں۔ نیز تمہارے لئے محل بنادے
En
اللہ تعالیٰ تو ایسا بابرکت ہے کہ اگر چاہے تو آپ کو بہت سے ایسے باغات عنایت فرما دے جو ان کے کہے ہوئے باغ سے بہت ہی بہتر ہوں جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہوں اور آپ کو بہت سے (پختہ) محل بھی دے دے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10){ تَبٰرَكَ الَّذِيْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ …:} بہت برکت اور لامحدود قوتوں اور اسباب کا مالک ہے وہ اللہ کہ اگر چاہے تو جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں آپ کو اس سے کہیں بہتر چیزیں دنیا ہی میں دے دے، ایک باغ نہیں بے شمار باغات دے دے، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور ایک محل نہیں بہت سے محل عطا کر دے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10-1یعنی یہ آپ کے لئے جو مطالبے کرتے ہیں، اللہ کے لئے ان کا کردینا کوئی مشکل نہیں ہے، وہ چاہے تو ان سے بہتر باغات اور محلات دنیا میں آپ کو عطا کرسکتا ہے جو کہ ان کے دماغوں میں ہیں۔ لیکن ان کے مطالبے تو تکذیب وعناد کے طور پر ہیں نہ کہ طلب ہدایت اور تلاش نجات کے لئے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ وہ بڑی برکت والی ذات ہے۔ وہ چاہے تو آپ کو ان چیزوں سے بھی بہتر چیزیں دے سکتا ہے (ایک نہیں) کئی باغ جن میں نہریں جاری ہوں اور کئی محل دے سکتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ آپ کو اس دنیا میں خیر کثیر سے نوازنے کی قدرت رکھتا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو آپ کے لیے ان سے بہتر چیزیں کر دے۔ یعنی ان چیزوں سے بھی بہتر جن کا انھوں نے ذکر کیا ہے پھر اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْ٘هٰرُ١ۙ وَیَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور کردے وہ آپ کے لیے محلات۔ یعنی بلند اور آراستہ محل۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں مگر چونکہ دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی حقیر چیز ہے، اس لیے وہ اپنے انبیاء و اولیاء کو صرف اتنی ہی دنیا عطا کرتا ہے جتنی حکمت اس کا تقاضا کرتی ہے اور ان کے دشمنوں کے اعتراضات کہ انھیں بہت زیادہ رزق سے کیوں نہیں نوازا گیا، محض ظلم اور جسارت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا أخبر أنه قادر على أن يعطيك خيراً كثيراً في الدُّنيا، فقال: {تبارك الذي إن شاء جَعَلَ لك خيراً من ذلك}؛ أي: خيراً مما قالوا، ثم فسَّره بقوله: {جنَّاتٍ تَجْري من تَحْتِها الأنهار ويَجْعَلْ لك قُصوراً}: مرتفعةً مزخرفةً؛ فقدرتُهُ ومشيئتُهُ لا تقصُرُ عن ذلك، ولكنَّه تعالى لما كانت الدُّنيا عنده في غاية البعد والحقارة؛ أعطى منها أولياءه ورسله ما اقتضتْه حكمتُه منها، واقتراحُ أعدائهم بأنَّهم هلاَّ رُزِقوا منها رزقاً كثيراً جدًّا ظلمٌ وجراءةٌ.