یہ خیال آپ کبھی بھی نہ کرنا کہ منکر لوگ زمین میں (ادھر ادھر بھاگ کر) ہمیں ہرا دینے والے ہیں، ان کا اصلی ٹھکانا تو جہنم ہے جو یقیناً بہت ہی برا ٹھکانا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ لَاتَحْسَبَنَّالَّذِیْنَكَفَرُوْامُعْجِزِیْنَفِیالْاَرْضِ﴾”نہ گمان کریں آپ کافروں کو کہ وہ (اللہ کو) زمین میں عاجز کر دیں گے۔“ پس اس دنیا کی زندگی میں ان کو مال و متاع سے نوازا جانا آپ کو دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ ان کو مہلت دے رکھی ہے مگر وہ ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا، جیسا کہ فرمایا: ﴿ نُمَتِّعُهُمْقَلِیْلًاثُمَّنَضْطَرُّهُمْاِلٰىعَذَابٍغَلِیْظٍ﴾ (لقمان:31؍24) ہم تھوڑے عرصے کے لیے ان کو متاع دنیا سے نوازتے ہیں پھر ان کو بے بس کر کے ایک نہایت سخت عذاب کی طرف کھینچ لاتے ہیں۔“ بنابریں فرمایا: ﴿وَمَاْوٰىهُمُالنَّارُ١ؕوَلَ٘بِئْسَالْمَصِیْرُ ﴾”ان کا ٹھکانا آگ ہے اور البتہ وہ برا ٹھکانا ہے۔“ یعنی کافروں کا انجام بدترین ہے، ان کا انجام شر، حسرت اور ابدی عذاب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لا تحسبنَّ الذين كفروا مُعْجِزينَ في الأرض}: فلا يَغْرُرْكَ ما مُتِّعوا به في الحياة الدُّنيا؛ فإنَّ الله وإنْ أمْهَلَهم؛ فإنَّه لا يُهْمِلُهم؛ {نمتِّعُهم قليلاً ثم نضطرُّهم إلى عذابٍ غليظٍ}. ولهذا قال هنا: {ومأواهُمُ النارُ ولبئسَ المصيرُ}؛ أي: بئس المآلُ مآل الكافرين؛ مآل الشرِّ والحسرة والعقوبة الأبديَّة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔