تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے تمام ارکان، شرائط اور آداب کے ساتھ قائم کرنے اور اس مال کی زکاۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو عطا کیا اور ان کو اس مال پر خلیفہ بنایا کہ وہ یہ مال محتاجوں اور ان لوگوں پر خرچ کریں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے مصارف زکاۃ کے ضمن میں کیا ہے اور یہ دو عبادات سب سے زیادہ جلیل القدر عبادات ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد، اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کی جامع ہیں پھر اس حکم پر عطف کے ساتھ عام حکم دیا، فرمایا:﴿ وَاَطِیْعُواالرَّسُوْلَ ﴾”اور اطاعت کرو رسول کی۔“ یعنی اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ثبوت دو۔﴿ مَنْیُّطِعِالرَّسُوْلَفَقَدْاَطَاعَاللّٰهَ﴾ (النساء:4؍80) ”جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔“﴿ لَعَلَّكُمْ ﴾”تاکہ تم“ یعنی جب تم ان امور کا خیال رکھو گے تو ﴿ تُرْحَمُوْنَ ﴾”رحم کیے جاؤ۔“ جو کوئی رحمت کا طلب گار ہے تو اس کے حصول کا صرف یہی طریقہ ہے اور جو کوئی نماز قائم كيے، زکاۃ ادا كيے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت كيے بغیر رحمت کی امید رکھتا ہے تو اس کی تمنائیں جھوٹی ہیں اور وہ جھوٹی آرزوؤں میں گرفتار ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى بإقامة الصلاة بأركانها وشروطها وآدابها ظاهراً وباطناً، وبإيتاء الزكاة من الأموال التي استَخْلَفَ الله عليها العباد وأعطاهم إياها؛ بأن يُؤتوها الفقراء وغيرهم ممَّن ذَكَرَهُم الله لمصرِفِ الزكاة؛ فهذان أكبرُ الطاعات وأجلُّهما، جامعتان لحقِّه وحقِّ خلقِهِ، للإخلاص للمعبود وللإحسان إلى العبيد. ثم عَطَفَ عليهما الأمرَ العامَّ، فقال: {وأطيعوا الرَّسولَ}: وذلك بامتثال أوامرِهِ واجتنابِ نواهيه، {ومَن يُطِعِ الرسولَ فَقَدْ أطاع الله}، {لعلَّكم}: حين تقومون بذلك {تُرْحَمون}: فمن أراد الرحمةَ؛ فهذا طريقُها، ومَنْ رجاها من دون إقامة الصلاة وإيتاء الزَّكاة وإطاعة الرسول؛ فهو متمنٍّ كاذبٌ، وقد منَّته نفسُه الأمانيَّ الكاذبة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔