اے لوگو جو ایمان لائے ہو! لازم ہے کہ تم سے اجازت طلب کریں وہ لوگ جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوئے اور وہ بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہیں پہنچے، تین بار، فجر کی نماز سے پہلے اور جس وقت تم دوپہر کو اپنے کپڑے اتار دیتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد۔ یہ تین تمھارے لیے پردے (کے وقت) ہیں، ان کے بعد نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر۔ تم پر کثرت سے چکر لگانے والے ہیں، تمھارے بعض بعض پر۔ اسی طرح اللہ تمھارے لیے آیات کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ خوب جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
En
مومنو! تمہارے غلام لونڈیاں اور جو بچّے تم میں سے بلوغ کو نہیں پہنچے تین دفعہ یعنی (تین اوقات میں) تم سے اجازت لیا کریں۔ (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے گرمی کی دوپہر کو) جب تم کپڑے اتار دیتے ہو۔ اور تیسرے عشاء کی نماز کے بعد۔ (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے (کے) ہیں ان کے (آگے) پیچھے (یعنی دوسرے وقتوں میں) نہ تم پر کچھ گناہ ہے اور نہ ان پر۔ کہ کام کاج کے لئے ایک دوسرے کے پاس آتے رہتے ہو۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں تم سے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا بڑا علم والا اور بڑا حکمت والا ہے
ایمان والو! تم سے تمہاری ملکیت کے غلاموں کو اور انہیں بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں (اپنے آنے کی) تین وقتوں میں اجازت حاصل کرنی ضروری ہے۔ نماز فجر سے پہلے اور ﻇہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد، یہ تینوں وقت تمہاری (خلوت) اور پرده کے ہیں۔ ان وقتوں کے ماسوا نہ تو تم پر کوئی گناه ہے نہ ان پر۔ تم سب آپس میں ایک دوسرے کے پاس بکثرت آنے جانے والے ہو (ہی)، اللہ اسی طرح کھول کھول کر اپنے احکام تم سے بیان فرما رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ پورے علم اور کامل حکمت واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ ان کے غلام اور نابالغ بچے اجازت طلب کر کے ان کے پاس آیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کی ہے اور یہ کہ اجازت طلب کرنے والوں کے لیے پردے کے یہ تین اوقات ہیں۔ عشاء کی نماز کے بعد جب سونے کا وقت ہوتا ہے اور فجر کی نماز کے لیے بیدار ہونے سے پہلے۔ غالب حالات میں، رات کے وقت سونے والے نے معمول کے لباس کی بجائے شب خوابی کا لباس پہنا ہوتا ہے… البتہ دن کے وقت، قیلولہ وغیرہ میں انسان بسا اوقات اسی معمول کے لباس ہی میں سو جاتا ہے۔ اس کو اپنے اس ارشاد کے ساتھ مقید کیا ہے۔﴿ وَحِیْنَتَضَعُوْنَثِیَابَكُمْمِّنَالظَّهِیْرَةِ ﴾”دوپہر کے وقت جب تم (قیلولہ کے لیے) کپڑے اتارتے ہو۔“ پس مذکورہ بالا تین اوقات میں تمھارے غلام اور چھوٹے بچوں کو دوسرے لوگوں کی مانند اجازت لیے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں … ان تین اوقات کے علاوہ دیگر اوقات کے بارے میں فرمایا:﴿ لَ٘یْسَعَلَیْكُمْوَلَاعَلَیْهِمْجُنَاحٌۢبَعْدَهُنَّ﴾”نہیں ہے تم پر اور نہ ان پر کوئی گناہ ان اوقات کے بعد۔“ یعنی یہ غلام اور بچے دوسروں کی مانند نہیں کیونکہ وہ ہمیشہ ان کے محتاج ہوتے ہیں اس لیے ان کا ہر وقت اجازت طلب کرتے رہنا ان کے لیے باعث تکلیف ہو گا۔ بنابریں فرمایا:﴿ طَوّٰفُوْنَعَلَیْكُمْبَعْضُكُمْعَلٰىبَعْضٍ ﴾ یعنی تمھارے کام سرانجام دینے اور تمھاری ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کا تمھارے پاس آنا جانا رہتا ہے۔ ﴿كَذٰلِكَیُبَیِّنُاللّٰهُلَكُمُالْاٰیٰتِ ﴾ وہ تاکید کے لیے اپنی آیات کو اپنی حکمت کے ساتھ مقرون بیان کرتا ہے تاکہ شارع کی رحمت اور اس کی حکمت کی معرفت حاصل ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُعَلِیْمٌحَكِیْمٌ ﴾”اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔“ اس کا علم تمام واجبات و مستحبات اور تمام ممکنات کا احاطہ كيے ہوئے ہے، وہ اس حکمت کو بھی خوب جانتا ہے جس کی بنا پر ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھا گیا۔ پس ہر مخلوق کو وہی تخلیق عطا کی گئی ہے جو اس کے لائق ہے اور اس نے تمام شرعی احکام عطا كيے ہیں جو اس کے مناسب حال ہیں۔ یہ متذکرہ صدر احکام بھی انھی میں سے ہیں جنھیں اس نے خوب کھول کھول کر بیان کیا ہے اور ان کے مآخذ کو اور ان کے حسن کو واضح کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أمر المؤمنين أن يستأذِنَهم مماليكُهم والذين لم يبلُغوا الحُلُمَ منهم، قد ذَكَرَ الله حكمتَه، وأنَّه ثلاثُ عوارتٍ للمستأذَنِ عليهم؛ وقتَ نومِهم بالليل بعد العشاء، وعند انْتِباههم قبل صلاة الفجر؛ فهذا في الغالب أنَّ النائم يستعمل للنوم في الليل ثوباً غير ثوبِهِ المعتاد، وأمَّا نومُ النهار؛ [فلمّا] كان في الغالب قليلاً قد ينام فيه العبد بثيابِهِ المعتادة؛ قيَّده بقوله: {وحين تَضَعون ثيابَكم من الظهيرةِ}؛ أي: للقائلة وسط النهار؛ ففي ثلاث هذه الأحوال يكون المماليكُ والأولادُ الصغارُ كغيرهم لا يمكَّنون من الدُّخول إلاَّ بإذنٍ، وأمَّا ما عدا هذه الأحوالُ الثلاثة؛ فقال: {ليس عليكُم ولا عليهِم جُناح بعدهنَّ}؛ أي: ليسوا كغيرِهم؛ فإنَّهم يُحتاج إليهم دائماً، فيشقُّ الاستئذان منهم في كلِّ وقتٍ، ولهذا قال: {طَوَّافونَ عليكم بعضُكم على بعضٍ}؛ أي: يتردَّدون عليكم في قضاء أشغالكم وحوائجكم. {كذلك يبيِّنُ الله لكم الآياتِ}: بياناً مقروناً بحكمتِهِ؛ ليتأكَّدَ ويتقوَّى ويعرفَ به رحمةَ شارِعِه وحكمتَه، ولهذا قال: {والله عليمٌ حكيمٌ}: له العلم المحيطُ بالواجبات و [المستحيلات] والممكنات والحكمة التي وَضَعَتْ كلَّ شيءٍ موضِعَه، فأعطى كلَّ مخلوق خَلْقَه اللائق به، وأعطى كلَّ حكم شرعيٍّ حكمه اللائقَ به، ومنه هذه الأحكام التي بَيَّنَها وبيَّنَ مآخِذَها وحُسْنَها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔