ترجمہ و تفسیر — سورۃ النور (24) — آیت 56

وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۵۶﴾
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رسول کا حکم مانو، تاکہ تم رحم کیے جاؤ۔ En
اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو اور پیغمبر خدا کے فرمان پر چلتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے
En
نماز کی پابندی کرو، زکوٰة ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی فرمانبرداری میں لگے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 56){وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ …:} اس کا عطف { يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا } پر ہے، کیونکہ وہ اگرچہ لفظوں میں خبر ہے مگر معنی کے لحاظ سے امر ہے۔ گویا یہ کہا جا رہا ہے: { اُعْبُدُوْنِيْ وَلَا تُشْرِكُوْا بِيْ شَيْئًا وَأَقِيْمُوا الصَّلاَةَ وَ آتُوا الزَّكَاةَ} خبر کے امر کے معنی میں ہونے کی ایک مثال یہ آیت ہے: { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ (10) تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ }آگے فرمایا: «{ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ [الصف: ۱۰ تا ۱۲] اس میں { يَغْفِرْ } پر جزم اس لیے ہے کہ یہ امر کا جواب ہے، جو { تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ } خبر کی صورت میں ہے۔ (ابن عاشور) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خلافتِ ارضی کے حصول اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حق دار بننے کا طریقہ بیان فرمایا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ (یہ بات { يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا } واؤ پر عطف سے ظاہر ہے) اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رسول کی فرماں برداری کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ یہ نہایت جامع آیت ہے، دین کی کوئی بات باقی نہیں رہی جو اس آیت میں نہ آتی ہو۔ اللہ کی توحید کے بعد نماز اور زکوٰۃ کا خاص ذکر کرکے رسول کا ہر حکم ماننے کا حکم دیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

56-1یہ گویا مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ اللہ کی رحمت اور مدد حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے جس پر چل کر صحابہ کرام کو یہ رحمت اور مدد حاصل ہوئی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

56۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو (اس طرح) توقع ہے کہ تم پر رحم کیا جائے [85]۔
[85] یہ خطاب صرف منافقوں کو ہی نہیں بلکہ سب کے لئے عام ہے۔ یعنی اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ اللہ تم پر رحم فرمائے اور اس کی رحمتیں تم پر نازل ہوں تو اس کی صورت صرف یہی ہے کہ سچے دل سے اللہ کے رسول کی اطاعت کرو اور نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا پورا اہتمام کرو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صلوۃ اور حسن سلوک کی ہدایات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے با ایمان بندوں کو صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ ’ اسی کے لیے نمازیں پڑھتے رہو، اور ساتھ ہی اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہو۔ ضعیفوں، مسکینوں، فقیروں کی خبرگیری کرتے رہو۔ مال میں سے اللہ کا حق یعنی زکوٰۃ نکالتے رہو۔ اور ہر امر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے رہو۔ جس بات کا وہ حکم فرمائے لاؤ جس امر سے وہ روکیں رک جاؤ۔ یقین مانوکہ اللہ کی رحمت کے حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے ‘۔
چنانچہ اور آیت میں ہے «اُولٰىِٕكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» ۱؎ [9-التوبة:71]‏‏‏‏ ’ یہی لوگ ہیں جن پر ضرور بضرور اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ گمان نہ کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ ماننے والے ہم پر غالب آجائیں گے یا ادھر ادھر بھاگ کر ہمارے بے پناہ عذابوں سے بچ جائیں گے۔ ہم تو ان کا اصلی ٹھکانہ جہنم میں مقرر کر چکے ہیں جو نہایت بری جگہ ہے۔ قرار گاہ کے اعتبار اور بازگشت کے اعتبار سے بھی ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے تمام ارکان، شرائط اور آداب کے ساتھ قائم کرنے اور اس مال کی زکاۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو عطا کیا اور ان کو اس مال پر خلیفہ بنایا کہ وہ یہ مال محتاجوں اور ان لوگوں پر خرچ کریں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے مصارف زکاۃ کے ضمن میں کیا ہے اور یہ دو عبادات سب سے زیادہ جلیل القدر عبادات ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد، اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کی جامع ہیں پھر اس حکم پر عطف کے ساتھ عام حکم دیا، فرمایا:﴿ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ اور اطاعت کرو رسول کی۔ یعنی اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ثبوت دو۔﴿ مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ (النساء:4؍80) جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ ﴿ لَعَلَّكُمْ تاکہ تم یعنی جب تم ان امور کا خیال رکھو گے تو ﴿ تُرْحَمُوْنَ رحم کیے جاؤ۔ جو کوئی رحمت کا طلب گار ہے تو اس کے حصول کا صرف یہی طریقہ ہے اور جو کوئی نماز قائم كيے، زکاۃ ادا كيے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت كيے بغیر رحمت کی امید رکھتا ہے تو اس کی تمنائیں جھوٹی ہیں اور وہ جھوٹی آرزوؤں میں گرفتار ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر تعالى بإقامة الصلاة بأركانها وشروطها وآدابها ظاهراً وباطناً، وبإيتاء الزكاة من الأموال التي استَخْلَفَ الله عليها العباد وأعطاهم إياها؛ بأن يُؤتوها الفقراء وغيرهم ممَّن ذَكَرَهُم الله لمصرِفِ الزكاة؛ فهذان أكبرُ الطاعات وأجلُّهما، جامعتان لحقِّه وحقِّ خلقِهِ، للإخلاص للمعبود وللإحسان إلى العبيد. ثم عَطَفَ عليهما الأمرَ العامَّ، فقال: {وأطيعوا الرَّسولَ}: وذلك بامتثال أوامرِهِ واجتنابِ نواهيه، {ومَن يُطِعِ الرسولَ فَقَدْ أطاع الله}، {لعلَّكم}: حين تقومون بذلك {تُرْحَمون}: فمن أراد الرحمةَ؛ فهذا طريقُها، ومَنْ رجاها من دون إقامة الصلاة وإيتاء الزَّكاة وإطاعة الرسول؛ فهو متمنٍّ كاذبٌ، وقد منَّته نفسُه الأمانيَّ الكاذبة.