اور تم میں سے فضیلت اور وسعت والے اس بات سے قسم نہ کھا لیں کہ قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دیں اور لازم ہے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخشے اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
En
اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں، وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے۔ ان کو چاہیئے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ خدا تم کو بخش دے؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے
تم میں سے جو بزرگی اور کشادگی والے ہیں انہیں اپنے قرابت داروں اور مسکینوں اور مہاجروں کو فی سبیل اللہ دینے سے قسم نہ کھا لینی چاہیئے، بلکہ معاف کردینا اور درگزر کرلینا چاہیئے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قصور معاف فرما دے؟ اللہ قصوروں کو معاف فرمانے واﻻ مہربان ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَایَ٘اْتَلِ ﴾ یعنی قسم نہ اٹھائیں ﴿اُولُواالْ٘فَضْلِمِنْكُمْوَالسَّعَةِاَنْیُّؤْتُوْۤااُولِیالْ٘قُ٘رْبٰىوَالْمَسٰكِیْنَوَالْ٘مُهٰجِرِیْنَفِیْسَبِیْلِاللّٰهِ١۪ۖوَلْ٘یَعْفُوْاوَلْیَصْفَحُوْا ﴾”جو تم میں سے بزرگی اور کشادگی والے ہیں، رشتے داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے سے اور چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر سے کام لیں۔“ واقعۂ افک میں ملوث ہونے والوں میں مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے جو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے رشتہ دار تھے، وہ اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے اور انتہائی نادار تھے۔ مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ کی بہتان طرازی کی وجہ سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قسم کھالی کہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے (جو کہ اس سے وہ کیا کرتے تھے) اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قسم سے روکا جو انفاق فی سبیل اللہ کے منقطع کرنے کو متضمن تھی اور انھیں عفو اور درگزر کرنے کی ترغیب دی اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ اگر وہ ان تقصیر کاروں کو بخش دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔
پس فرمایا: ﴿ا َلَاتُحِبُّوْنَاَنْیَّغْفِرَاللّٰهُلَكُمْ١ؕوَاللّٰهُغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ ﴾”کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ یعنی جب تم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ عفو اور درگزر کا معاملہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے ساتھ بھی عفو اور درگزر کا معاملہ کرے گا۔ جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ آیت کریمہ سنی تو انھوں نے کہا: ”کیوں نہیں اللہ کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔“ چنانچہ انھوں نے دوبارہ حضرت مسطح رضی اللہ عنہ کی مالی مدد شروع کر دی۔(صحیح البخاري، التفسیر، باب ﴿ان الذین یحبون ان تشیع…﴾، ح:4757 و صحیح مسلم، التوبۃ، باب فی حدیث الافک…، ح:2770)
یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرنا چاہیے اور بندے کی معصیت کی بنا پر یہ مالی مدد ترک نہیں کرنی چاہیے، نیز جرم کا ارتکاب کرنے والے سے خواہ کتنا ہی بڑا جرم سرزد کیوں نہ ہوا ہو، اللہ تعالیٰ نے عفو اور درگزر کی ترغیب دی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولا يَأتَلِ}؛ أي: لا يحلف {أولو الفضل منكُم والسَّعة أن يُؤتوا أولي القُربى والمساكينَ والمهاجرينَ في سبيل الله وَلْيَعْفوا وَلْيَصْفَحوا}: كان من جملة الخائضينَ في الإفك مِسْطَح بن أُثاثة، وهو قريبٌ لأبي بكرٍ الصديق رضي الله عنه، وكان مسطحٌ فقيراً من المهاجرين في سبيل الله، فحلفِ أبو بكرٍ أن لا يُنْفِقَ عليه؛ لقولِهِ الذي قال، فنزلتْ هذه الآيةُ [ينهاه] عن هذا الحَلِفَ المتضمِّن لقطع النفقة عنهُ، ويحثُّه على العفو والصفح، ويَعِدُهُ بمغفرةِ الله إنْ غَفَرَ له، فقال: {ألا تُحبُّونَ أن يَغْفِرَ اللهُ لكم واللهُ غفورٌ رحيمٌ}: إذا عامَلْتُم عبيدَه بالعفو والصفح؛ عاملكم بذلك، فقال أبو بكرٍ لمَّا سمع هذه الآية: بلى والله؛ إني لأحبُّ أن يَغْفِرَ الله لي، فَرَجَّعَ النفقةَ إلى مِسْطَحٍ.
وفي هذه الآيةِ دليلٌ على النفقة على القريب، وأنَّه لا تُتْرَكُ النفقةُ والإحسانُ بمعصية الإنسان، والحثُّ على العفو والصفح ولو جرى منه ما جرى من أهل الجرائم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔