تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ پچھلی آیت میں فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کرتا ہے تو اگر اہلِ افک اس گناہ میں مبتلا ہوئے ہیں اور تم اس سے محفوظ رہے ہو تو اس میں تمھارا کچھ کمال نہیں، یہ محض اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے، اس لیے جب بہتان لگانے والے تائب ہو چکے، انھیں اس کی سزا بھی مل چکی تو ان کی غلطی ہی پر نظر نہ رکھو، بلکہ ان سے حُسن سلوک کے اسباب پر بھی نگاہ رکھو، جن میں سے ہر سبب کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمھیں برتری اور وسعت دی ہے اس میں سے انھیں بھی دیتے رہو۔ ان حُسن سلوک کے اسباب میں سے ایک سبب قرابت دار ہونا ہے، دوسرا مسکین اور تیسرا مہاجر فی سبیل اللہ ہونا ہے۔ تینوں سبب جمع ہیں تو ان کا حق انھیں بالاولیٰ دینا چاہیے۔
➌ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مرتد ہونے کے سوا دوسرے گناہوں سے کسی شخص کے اعمال صالحہ بالکل ختم نہیں ہو جاتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بہتان لگانے کے باوجود اہل افک میں سے مہاجرین کی ہجرت کی قدر افزائی فرمائی ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔
➍ {وَ لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا:” وَ لْيَعْفُوْا “ ”عَفَا يَعْفُوْ“} کا معنی مٹانا ہے، کہا جاتا ہے: {”عَفَتِ الرِّيْحُ الْأَثَرَ“} ”ہوا نے قدموں کا نشان مٹا دیا۔“ یعنی ان کی لغزش کا خیال دل سے مٹا دیں اور اس پر پردہ ڈال دیں۔ {” وَ لْيَصْفَحُوْا “} بعض اہل علم نے فرمایا کہ یہ {”صَفْحَةُ الْعُنُقِ“} (گردن کا کنارہ) سے مشتق ہے، یعنی ان کے برے سلوک سے اس طرح درگزر کرو جیسے تم نے ان سے گردن کا کنارا پھیر لیا ہے۔ عفو و درگزر کا یہ حکم سورۂ آل عمران (۱۳۴)، نساء (۱۴۹)، حجر (۸۵)، شوریٰ (۴۳) اور دیگر کئی آیات میں آیا ہے۔ (اضواء البیان)
➎ { اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ:} اس کی شان نزول اوپر بیان ہو چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گناہ گار مسلم کو معاف کرنا اور اس سے درگزر کرنا گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔ تم بخشو گے تو اللہ تعالیٰ تمھیں بخشے گا، تم درگزر کر وگے تو اللہ تعالیٰ تم سے درگزر فرمائے گا، جیسا عمل کرو گے ویسی جزا پاؤ گے۔
➏ یہ آیت دلیل ہے کہ نیکی نہ کرنے کی قسم کھانا جائز نہیں، ایسی قسم کا کفارہ دے کر وہ نیکی کر لینی چاہیے۔ اسی طرح اگر قسم کا پورا نہ کرنا بہتر ہو تو اس کا بھی کفارہ دے کر بہتر کام کرنا چاہیے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَنْ حَلَفَ عَلٰی يَمِيْنٍ فَرَأَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِّنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَّمِيْنِهِ وَلْيَفْعَلْ] [ترمذي، النذور والأیمان، باب ما جاء في الکفارۃ قبل الحنث: ۱۵۳۰، و قال الألباني صحیح]”جو شخص کسی کام پر قسم کھائے، پھر اس کے علاوہ کو بہتر سمجھے تو اسے چاہیے کہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور (بہتر کام) کر لے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[27۔ 1]
لہٰذا بہتر صورت یہی ہے کہ ایسی قسم کا کفار بھی ادا کر دیا جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس طرح انہیں متوجہ فرما کر پھر اور نرم کرنے کے لیے فرمایا کہ ’ ان کی طرف سے کوئی قصور بھی سرزد ہوگیا ہو تو انہیں معاف کر دینا چاہیئے۔ ان سے کوئی ایذاء یا برائی پہنچی ہو تو ان سے درگزر کر لینا چاہیئے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم و کرم اور لطف رحم ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو بھلائی کا ہی حکم دیتا ہے ‘۔
سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کی سخاوت مشہور تھی، کیا اپنے کیا غیر سب کے ساتھ آپ رضی اللہ عنہ کا حسن سلوک عام تھا۔ آیت کے یہ خصوصی الفاظ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے کان میں پڑے کہ ’ کیا تم بخشش الٰہی کے طالب نہیں ہو؟ ‘ آپ رضی اللہ عنہ کی زبان سے بےساختہ نکل گیا کہ ”ہاں قسم ہے اللہ کی ہماری تو عین چاہت ہے کہ اللہ ہمیں بخشے“، اور اسی وقت سے سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ کو جو کچھ دیا کرتے تھے، جاری کر دیا۔ گویا ان آیتوں میں ہمیں تلقین ہوئی کہ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تقصیریں معاف ہو جائیں، ہمیں چاہیئے کہ دوسروں کی تقصیروں سے بھی درگزر کر لیا کریں۔
یہ بھی خیال میں رہے کہ جس طرح آپ نے پہلے یہ فرمایا تھا کہ واللہ میں اس کے ساتھ کبھی بھی سلوک نہ کروں گا۔ اب عہد کیا کہ واللہ میں اس سے کبھی بھی اس کا مقررہ روزینہ نہ روکوں گا۔ سچ ہے صدیق صدیق ہی تھے رضی اللہ عنہ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولا يَأتَلِ}؛ أي: لا يحلف {أولو الفضل منكُم والسَّعة أن يُؤتوا أولي القُربى والمساكينَ والمهاجرينَ في سبيل الله وَلْيَعْفوا وَلْيَصْفَحوا}: كان من جملة الخائضينَ في الإفك مِسْطَح بن أُثاثة، وهو قريبٌ لأبي بكرٍ الصديق رضي الله عنه، وكان مسطحٌ فقيراً من المهاجرين في سبيل الله، فحلفِ أبو بكرٍ أن لا يُنْفِقَ عليه؛ لقولِهِ الذي قال، فنزلتْ هذه الآيةُ [ينهاه] عن هذا الحَلِفَ المتضمِّن لقطع النفقة عنهُ، ويحثُّه على العفو والصفح، ويَعِدُهُ بمغفرةِ الله إنْ غَفَرَ له، فقال: {ألا تُحبُّونَ أن يَغْفِرَ اللهُ لكم واللهُ غفورٌ رحيمٌ}: إذا عامَلْتُم عبيدَه بالعفو والصفح؛ عاملكم بذلك، فقال أبو بكرٍ لمَّا سمع هذه الآية: بلى والله؛ إني لأحبُّ أن يَغْفِرَ الله لي، فَرَجَّعَ النفقةَ إلى مِسْطَحٍ.
وفي هذه الآيةِ دليلٌ على النفقة على القريب، وأنَّه لا تُتْرَكُ النفقةُ والإحسانُ بمعصية الإنسان، والحثُّ على العفو والصفح ولو جرى منه ما جرى من أهل الجرائم.