تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النور (24) — آیت 23

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ لُعِنُوۡا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۪ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۲۳﴾
بے شک وہ لوگ جو پاک دامن، بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں لعنت کیے گئے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ En
جو لوگ پرہیزگار اور برے کاموں سے بےخبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا وآخرت (دونوں) میں لعنت ہے۔ اور ان کو سخت عذاب ہوگا
En
جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی باایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وه دنیا وآخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الْغٰفِلٰ٘تِ الْ٘مُؤْمِنٰتِ بے خبر، مومن عورتوں پر۔ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر الوعيدَ الشديدَ على رمي المحصنات، فقال: {إنَّ الذين يَرْمونَ المحصناتِ}؛ أي: العفائف عن الفجور {الغافلاتِ}: اللاتي لم يَخْطُرْ ذلك بقلوبهنَّ، {المؤمناتِ لُعِنوا في الدُّنيا والآخرة}: واللعنةُ لا تكونُ إلاَّ على ذنبٍ كبيرٍ، وأكَّد اللعنة بأنها متواصلة عليهم في الدارين. {ولهم عذابٌ عظيمٌ}: وهذا زيادةٌ على اللعنة، أبعدَهم عن رحمتِهِ وأحلَّ بهم شدَّة نقمتِهِ، وذلك العذاب يوم القيامة.