تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے عفت مآب عورتوں پر بہتان لگانے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّالَّذِیْنَیَرْمُوْنَالْمُحْصَنٰتِ ﴾”وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر۔“ یعنی فسق و فجور سے پاک عورتیں ﴿ الْغٰفِلٰ٘تِالْ٘مُؤْمِنٰتِ ﴾”بے خبر، مومن عورتوں پر۔“ یعنی جن کے دلوں میں کبھی بدکاری کا خیال بھی نہیں گزرا ﴿ لُعِنُوْافِیالدُّنْیَاوَالْاٰخِرَةِ﴾”ان پر دنیا و آخرت میں لعنت ہے۔“ اور لعنت صرف کسی بڑے گناہ ہی پر کی جاتی ہے اور لعنت کو موکد اسی طرح کیا گیا ہے کہ اس کا دنیا و آخرت میں ان کو مورد قرار دیا گیا ہے﴿ وَلَهُمْعَذَابٌعَظِیْمٌ﴾”اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔“ یہ عذاب عظیم اس لعنت پر مستزاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا اور ان پر اپنا غضب نازل فرمایا۔یہ عذاب عظیم قیامت کے روز ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر الوعيدَ الشديدَ على رمي المحصنات، فقال: {إنَّ الذين يَرْمونَ المحصناتِ}؛ أي: العفائف عن الفجور {الغافلاتِ}: اللاتي لم يَخْطُرْ ذلك بقلوبهنَّ، {المؤمناتِ لُعِنوا في الدُّنيا والآخرة}: واللعنةُ لا تكونُ إلاَّ على ذنبٍ كبيرٍ، وأكَّد اللعنة بأنها متواصلة عليهم في الدارين. {ولهم عذابٌ عظيمٌ}: وهذا زيادةٌ على اللعنة، أبعدَهم عن رحمتِهِ وأحلَّ بهم شدَّة نقمتِهِ، وذلك العذاب يوم القيامة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔