تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النور (24) — آیت 17

یَعِظُکُمُ اللّٰہُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِمِثۡلِہٖۤ اَبَدًا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۱۷﴾
اللہ تمھیں نصیحت کرتا ہے اس سے کہ دوبارہ کبھی ایسا کام کرو، اگر تم مومن ہو۔ En
خدا تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر مومن ہو تو پھر کبھی ایسا کام نہ کرنا
En
اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی بھی ایسا کام نہ کرنا اگر تم سچے مومن ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِـمِثْلِهٖ٘ۤ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا (روکتا) ہے کہ تم اہل ایمان پر بدکاری کے بہتان جیسے گناہ کا اعادہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمھیں نصیحت کرتا ہے اور اس بارے میں تمھاری خیر خواہی کرتا ہے۔ ہمارے رب کے مواعظ اور نصائح کتنے اچھے ہیں۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم انھیں قبول کریں، ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں، ان کی پیروی کریں اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے واضح کیا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ (النساء: 4؍58) اللہ تمھیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔﴿ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ اگر تم مومن ہو۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ ایمان صادق، صاحب ایمان کو محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يعِظُكم اللهُ أن تعودوا لمثلِهِ}؛ أي: لنظيره من رمي المؤمنين بالفُجور؛ فالله يعِظُكم وينصحُكم عن ذلك، ونعم المواعظ والنصائح من ربِّنا؛ فيجبُ علينا مقابلتُها بالقبول والإذعان والتسليم والشُّكر له على ما بيَّن لنا، أنَّ الله نِعِمَّا يَعِظُكم به. {إنْ كنتُم مؤمنينَ}: دلَّ ذلك على أنَّ الإيمان الصادق يمنعُ صاحبه من الإقدام على المحرَّمات.