تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَوْلَاۤاِذْسَمِعْتُمُوْهُ ﴾ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلْتُمْ ﴾ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّایَكُوْنُلَنَاۤاَنْنَّتَكَلَّمَبِهٰؔذَا ﴾ اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَابُهْتَانٌعَظِیْمٌ ﴾”یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولولا إذ سمِعْتُموه}؛ أي: وهلاَّ إذ سمعتُم أيها المؤمنون كلامَ أهل الإفك، {قلتم}: منكرين لذلك معظِّمين لأمرِه: {ما يكونُ لنا أن نتكَلَّمَ بهذا}؛ أي: ما ينبغي لنا وما يليقُ بنا الكلامُ بهذا الإفك المبين؛ لأنَّ المؤمن يمنعُه إيمانُه من ارتكاب القبائح. {هذا بهتانٌ}؛ أي: كذب {عظيمٌ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔