تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النور (24) — آیت 16

وَ لَوۡ لَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡہُ قُلۡتُمۡ مَّا یَکُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَکَلَّمَ بِہٰذَا ٭ۖ سُبۡحٰنَکَ ہٰذَا بُہۡتَانٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۶﴾
اور کیوں نہ جب تم نے اسے سنا تو کہا ہمارا حق نہیں ہے کہ ہم اس کے ساتھ کلام کریں، تو پاک ہے، یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ En
اور جب تم نے اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں شایاں نہیں کہ ایسی بات زبان پر نہ لائیں۔ (پروردگار) تو پاک ہے یہ تو (بہت) بڑا بہتان ہے
En
تم نے ایسی بات کو سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات منھ سے نکالنی بھی ﻻئق نہیں۔ یا اللہ! تو پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے اور تہمت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَوْلَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ یعنی اے مومنو! جب تم نے بہتان تراشوں کی یہ باتیں سنیں ﴿ قُلْتُمْ تو تم نے اس بہتان کا انکار کرتے ہوئے اور اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے کیوں نہ کہا؟ ﴿ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰؔذَا اس واضح بہتان طرازی کے ساتھ کلام کرنا ہمارے لیے مناسب ہے نہ ہمارے لائق کیونکہ مومن کا ایمان اسے قبیح کاموں کے ارتکاب سے روکتا ہے۔﴿ هٰؔذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولولا إذ سمِعْتُموه}؛ أي: وهلاَّ إذ سمعتُم أيها المؤمنون كلامَ أهل الإفك، {قلتم}: منكرين لذلك معظِّمين لأمرِه: {ما يكونُ لنا أن نتكَلَّمَ بهذا}؛ أي: ما ينبغي لنا وما يليقُ بنا الكلامُ بهذا الإفك المبين؛ لأنَّ المؤمن يمنعُه إيمانُه من ارتكاب القبائح. {هذا بهتانٌ}؛ أي: كذب {عظيمٌ}.