تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النور (24) — آیت 18

وَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الۡاٰیٰتِ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۸﴾
اور اللہ تمھارے لیے آیات کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور خدا تمہارے (سمجھانے کے لئے) اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔ اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے
En
اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں بیان فرما رہا ہے، اور اللہ تعالیٰ علم و حکمت واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَیُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ اور اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے۔ جو احکامات، وعظ و نصیحت، زجرو توبیخ اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان آیات کو خوب اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ یعنی اللہ تعالیٰ کامل علم والا ہے اور اس کی حکمت عام ہے۔ یہ اس کا علم اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے اپنے علم میں سے تمھیں علم سکھایا، اگرچہ یہ علم ہر وقت تمھارے اپنے مصالح کی طرف لوٹتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويبيِّن اللهُ لكم الآياتِ}: المشتملة على بيان الأحكام والوعظِ والزجر والترغيب والترهيب، يوضِّحُها لكم توضيحاً جليًّا. {والله عليم (حكيم) }؛ أي: كامل العلم، عامُّ الحكمة؛ فمن علمِهِ وحكمتِهِ أن علَّمكم من علمه، وإنْ كان ذلك راجعاً لمصالحكم في كلِّ وقت.