تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ ان مکارم اخلاق میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِدْفَ٘عْبِالَّتِیْهِیَاَحْسَنُالسَّیِّئَةَ ﴾”دور کریں برائی کو اس طریقے سے جو احسن ہو۔“ یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن قول و فعل کے ذریعے سے آپ کے ساتھ برائی سے پیش آئیں تو آپ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئیں، ہرچند کہ برائی کا بدلہ اسی قسم کی برائی سے دینا جائز ہے مگر آپ ان کے برے سلوک کے بدلے میں، ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آئیں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے برا سلوک کرنے والے پر احسان ہے۔
اس میں فائدہ یہ ہے کہ حال اور مستقبل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے برائی میں تخفیف ہوگی۔ آپ کا یہ حسن سلوک آپ کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے کو حق کی طرف لانے میں زیادہ ممد ثابت ہوگا۔ آپ کا حسن سلوک برائی سے پیش آنے والے کو ندامت، تاسف اور توبہ کے ذریعے سے بدسلوکی سے رجوع کرنے کے زیادہ قریب لے آئے گا۔ معاف کرنے والے کو احسان کی صفت سے متصف ہونا چاہیے، اس سے وہ اپنے دشمن شیطان پر غلبہ حاصل کرتا ہے اور رب کریم کی طرف سے ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ فَ٘مَنْعَفَاوَاَصْلَ٘حَفَاَجْرُهٗعَلَىاللّٰهِ ﴾ (الشوریٰ:42؍40) ”جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔“ اور فرمایا: ﴿ اِدْفَ٘عْبِالَّتِیْهِیَاَحْسَنُفَاِذَاالَّذِیْبَیْنَكَوَبَیْنَهٗعَدَاوَةٌكَاَنَّهٗوَلِیٌّحَمِیْمٌ۰۰وَمَایُلَقّٰىهَاۤاِلَّاالَّذِیْنَصَبَرُوْا١ۚوَمَایُلَقّٰىهَاۤاِلَّاذُوْحَظٍّعَظِیْمٍ ﴾ (حم السجدۃ:41؍34،35) ”آپ برائی کو ایسی نیکی کے ذریعے سے روكيے جو بہترین ہو تب آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص، جس کی آپ کے ساتھ عداوت ہے، آپ کا جگری دوست بن جائے گا اور یہ صفت نصیب نہیں ہوتی (یعنی خلق جمیل کی توفیق) مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور اس صفت سے بہرہ مند نہیں ہوتے مگر وہ لوگ جو بہت بڑے نصیب کے مالک ہیں۔“
﴿نَحْنُاَعْلَمُبِمَایَصِفُوْنَ ﴾”ہم خوب جانتے ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں۔“ یعنی ان باتوں کو جو کفر اور تکذیب حق کو متضمن ہیں ہمارے علم نے ان کی باتوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ہم نے ان کے بارے میں حلم سے کام لیا، ہم نے ان کو مہلت دی اور ہم نے ان کے بارے میں صبر کیا ہے۔ حق ہمارے لیے ہے اور ان کی تکذیب بھی ہماری طرف لوٹتی ہے۔ اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لیے مناسب یہ ہے کہ آپ ان کی اذیت ناک باتوں پر صبر کریں اور ان سے حسن سلوک سے پیش آئیں انسانوں کی طرف سے برے سلوک کے مقابلے میں بندۂ مومن کا یہی وظیفہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا من مكارم الأخلاق التي أمر اللهُ رسولَه بها، فقال: {ادفَعْ بالتي هي أحسنُ السيئةَ}؛ أي: إذا أساء إليك أعداؤك بالقول والفعل؛ فلا تقابِلْهم بالإساءة؛ مع أنَّه يجوزُ معاقبة المسيء بمثل إساءته، ولكن ادْفَعْ إساءتهم إليك بالإحسان منك إليهم؛ فإنَّ ذلك فضلٌ منك على المسيء، ومن مصالح ذلك أنَّه تخفُّ الإساءة عنك في الحال وفي المستقبل، وأنَّه أدعى لجلب المسيء إلى الحقِّ، وأقرب إلى ندمه وأسفه ورجوعِهِ بالتوبة عمَّا فَعَلَ، ويتَّصِفُ العافي بصفة الإحسان، ويقهرُ بذلك عدوَّه الشيطان، ويستوجبُ الثواب من الربِّ؛ قال تعالى: {فَمَنْ عفا وأصلحَ فأجرُهُ على الله}، وقال تعالى: {ادفَعْ بالتي هي أحسنُ السيئةَ فإذا الذي بينَكَ وبينَهُ عداوةٌ كأنَّه وليٌّ حميمٌ. وما يُلَقَّاها}؛ أي: ما يوفَّق لهذا الخُلُق الجميل {إلاَّ الذين صَبَروا وما يُلَقَّاها إلاَّ ذو حظٍّ عظيم}.
وقوله: {نحن أعلم بما يَصِفون}؛ أي: بما يقولون من الأقوال المتضمِّنة للكفر والتكذيب بالحق، قد أحاط علمُنا بذلك، وقد حَلِمْنا عنهم وأمهَلْناهم وصبَرْنا عليهم، والحقُّ لنا، وتكذيبُهم لنا؛ فأنت يا محمد ينبغي لك أن تصبِرَ على ما يقولون، وتقابِلَهم بالإحسان. هذه وظيفة العبد في مقابلة المسيء من البشر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔