تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ برائی کا جواب بہترین طریقے سے یہ ہے کہ بدی کا جواب نیکی سے، ظلم کا جواب انصاف سے، خیانت کا جواب دیانت داری سے، جھوٹ کا جواب سچ سے، قطع رحمی کا جواب صلہ رحمی سے اور گالی گلوچ کا جواب دعا و سلام سے دیا جائے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: «اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ» [حٰمٓ السجدۃ: ۳۴] ”(برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہو گا جیسے وہ دلی دوست ہو۔“ اس میں عفو و درگزر کی تعلیم دی گئی ہے، کیونکہ لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کے لیے یہ سب سے اچھا طریقہ ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: [وَاللّٰهِ! مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ فِيْ شَيْءٍ يُؤْتَی إِلَيْهِ قَطُّ حَتّٰی تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللّٰهِ فَيَنْتَقِمُ لِلّٰهِ] [بخاري، الحدود، باب إقامۃ الحدود والانتقام لحرمات اللہ: ۶۷۸۶] ”اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ کی گئی کسی زیادتی میں اپنی ذات کا انتقام کبھی نہیں لیا، مگر اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کیا جائے تو اللہ کی خاطر انتقام لیتے تھے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
نیز یہ جملہ ایک ایسی آفاقی حقیقت (Universal Truth) ہے۔ جس کا ہر شخص، ہر حال میں اور ہر زمانہ میں تجربہ کر کے اس کے خوشگوار اثرات سے مستفید ہوتا رہا ہے اور ہو سکتا ہے۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ اصول جتنا مفید ہے اتنا ہی اس پر عمل پیرا ہونا مشکل ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ صاحب عزم انسان ہی اس پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا من مكارم الأخلاق التي أمر اللهُ رسولَه بها، فقال: {ادفَعْ بالتي هي أحسنُ السيئةَ}؛ أي: إذا أساء إليك أعداؤك بالقول والفعل؛ فلا تقابِلْهم بالإساءة؛ مع أنَّه يجوزُ معاقبة المسيء بمثل إساءته، ولكن ادْفَعْ إساءتهم إليك بالإحسان منك إليهم؛ فإنَّ ذلك فضلٌ منك على المسيء، ومن مصالح ذلك أنَّه تخفُّ الإساءة عنك في الحال وفي المستقبل، وأنَّه أدعى لجلب المسيء إلى الحقِّ، وأقرب إلى ندمه وأسفه ورجوعِهِ بالتوبة عمَّا فَعَلَ، ويتَّصِفُ العافي بصفة الإحسان، ويقهرُ بذلك عدوَّه الشيطان، ويستوجبُ الثواب من الربِّ؛ قال تعالى: {فَمَنْ عفا وأصلحَ فأجرُهُ على الله}، وقال تعالى: {ادفَعْ بالتي هي أحسنُ السيئةَ فإذا الذي بينَكَ وبينَهُ عداوةٌ كأنَّه وليٌّ حميمٌ. وما يُلَقَّاها}؛ أي: ما يوفَّق لهذا الخُلُق الجميل {إلاَّ الذين صَبَروا وما يُلَقَّاها إلاَّ ذو حظٍّ عظيم}.
وقوله: {نحن أعلم بما يَصِفون}؛ أي: بما يقولون من الأقوال المتضمِّنة للكفر والتكذيب بالحق، قد أحاط علمُنا بذلك، وقد حَلِمْنا عنهم وأمهَلْناهم وصبَرْنا عليهم، والحقُّ لنا، وتكذيبُهم لنا؛ فأنت يا محمد ينبغي لك أن تصبِرَ على ما يقولون، وتقابِلَهم بالإحسان. هذه وظيفة العبد في مقابلة المسيء من البشر.