ترجمہ و تفسیر — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 96

اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ السَّیِّئَۃَ ؕ نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَصِفُوۡنَ ﴿۹۶﴾
اس طریقے سے برائی کو ہٹا جو سب سے اچھا ہو، ہم زیادہ جاننے والے ہیں جو کچھ وہ بیان کرتے ہیں۔ En
اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو۔ اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے
En
برائی کو اس طریقے سے دور کریں جو سراسر بھلائی واﻻ ہو، جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں ہم بخوبی واقف ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 96) ➊ { اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ …:} یعنی ہم عذاب میں جو تاخیر کر رہے ہیں اس میں ہماری حکمت ہے، آپ اس دوران ان کی ہر برائی اور زیادتی کا جواب ایسے طریقے سے دیں جو اچھا ہی نہیں، سب سے اچھا ہو۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا کچھ کہتے ہیں، کس طرح اللہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور کس طرح آپ کو کاہن، شاعر، جادوگر اور دیوانہ وغیرہ کہتے ہیں۔
➋ برائی کا جواب بہترین طریقے سے یہ ہے کہ بدی کا جواب نیکی سے، ظلم کا جواب انصاف سے، خیانت کا جواب دیانت داری سے، جھوٹ کا جواب سچ سے، قطع رحمی کا جواب صلہ رحمی سے اور گالی گلوچ کا جواب دعا و سلام سے دیا جائے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: «اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ» ‏‏‏‏ [حٰمٓ السجدۃ: ۳۴] (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہو گا جیسے وہ دلی دوست ہو۔ اس میں عفو و درگزر کی تعلیم دی گئی ہے، کیونکہ لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کے لیے یہ سب سے اچھا طریقہ ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں: [وَاللّٰهِ! مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ فِيْ شَيْءٍ يُؤْتَی إِلَيْهِ قَطُّ حَتّٰی تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللّٰهِ فَيَنْتَقِمُ لِلّٰهِ] [بخاري، الحدود، باب إقامۃ الحدود والانتقام لحرمات اللہ: ۶۷۸۶] اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ کی گئی کسی زیادتی میں اپنی ذات کا انتقام کبھی نہیں لیا، مگر اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کیا جائے تو اللہ کی خاطر انتقام لیتے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

96-1جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ' برائی ایسے طریقے سے دور کرو جو اچھا ہو، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارا دشمن بھی، تمہارا گہرا دوست بن جائے گا۔ حٰم السجدہ 2435

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

96۔ آپ ان کے جواب میں بھی ایسی بات کہئے جو بہت اچھی ہو [93] جو کچھ یہ لوگ بیان کرتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں۔
[93] یعنی اگرچہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ آپ کے جیتے جی انھیں وہ عذاب چکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ مگر ہنوز وہ وقت نہیں آیا ابھی آپ کے لئے بہتر حکمت عملی یہی ہے کہ آپ ان مشرکوں کے برے سلوک اور ناگوار اور تلخ باتوں کا جواب بھلائی سے دیں ابھی ان میں کئی لوگ ایسے موجود ہیں جن کے لئے ہدایت مقدور ہو چکی ہے۔ ربط مضمون کے لحاظ سے اس لکا مطلب یہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔ تاہم داعی حق کے لئے یہ ایک نہایت قیمتی اصول ہے اور اس کا نتیجہ ہمیشہ خوشگوار نکلتا ہے اسی اصول کو قرآن نے ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا ہے۔ آپ برائی کا جواب بھلائی سے دیا کیجئے اس طرح تمہارا دشمن بھی تمہارا دلی دوست بن جائے گا۔ [41: 34]
نیز یہ جملہ ایک ایسی آفاقی حقیقت (Universal Truth) ہے۔ جس کا ہر شخص، ہر حال میں اور ہر زمانہ میں تجربہ کر کے اس کے خوشگوار اثرات سے مستفید ہوتا رہا ہے اور ہو سکتا ہے۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ اصول جتنا مفید ہے اتنا ہی اس پر عمل پیرا ہونا مشکل ہے۔ یہ ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ صاحب عزم انسان ہی اس پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ ان مکارم اخلاق میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِدْفَ٘عْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ دور کریں برائی کو اس طریقے سے جو احسن ہو۔ یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن قول و فعل کے ذریعے سے آپ کے ساتھ برائی سے پیش آئیں تو آپ ان کے ساتھ برائی سے پیش نہ آئیں، ہرچند کہ برائی کا بدلہ اسی قسم کی برائی سے دینا جائز ہے مگر آپ ان کے برے سلوک کے بدلے میں، ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آئیں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے برا سلوک کرنے والے پر احسان ہے۔
اس میں فائدہ یہ ہے کہ حال اور مستقبل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے برائی میں تخفیف ہوگی۔ آپ کا یہ حسن سلوک آپ کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے کو حق کی طرف لانے میں زیادہ ممد ثابت ہوگا۔ آپ کا حسن سلوک برائی سے پیش آنے والے کو ندامت، تاسف اور توبہ کے ذریعے سے بدسلوکی سے رجوع کرنے کے زیادہ قریب لے آئے گا۔ معاف کرنے والے کو احسان کی صفت سے متصف ہونا چاہیے، اس سے وہ اپنے دشمن شیطان پر غلبہ حاصل کرتا ہے اور رب کریم کی طرف سے ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ فَ٘مَنْ عَفَا وَاَصْلَ٘حَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ (الشوریٰ:42؍40) جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ اور فرمایا: ﴿ اِدْفَ٘عْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَبَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۰۰وَمَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَمَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ (حم السجدۃ:41؍34،35) آپ برائی کو ایسی نیکی کے ذریعے سے روكيے جو بہترین ہو تب آپ دیکھیں گے کہ وہ شخص، جس کی آپ کے ساتھ عداوت ہے، آپ کا جگری دوست بن جائے گا اور یہ صفت نصیب نہیں ہوتی (یعنی خلق جمیل کی توفیق) مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں اور اس صفت سے بہرہ مند نہیں ہوتے مگر وہ لوگ جو بہت بڑے نصیب کے مالک ہیں۔
﴿نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ ہم خوب جانتے ہیں جو وہ بیان کرتے ہیں۔ یعنی ان باتوں کو جو کفر اور تکذیب حق کو متضمن ہیں ہمارے علم نے ان کی باتوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ہم نے ان کے بارے میں حلم سے کام لیا، ہم نے ان کو مہلت دی اور ہم نے ان کے بارے میں صبر کیا ہے۔ حق ہمارے لیے ہے اور ان کی تکذیب بھی ہماری طرف لوٹتی ہے۔ اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لیے مناسب یہ ہے کہ آپ ان کی اذیت ناک باتوں پر صبر کریں اور ان سے حسن سلوک سے پیش آئیں انسانوں کی طرف سے برے سلوک کے مقابلے میں بندۂ مومن کا یہی وظیفہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا من مكارم الأخلاق التي أمر اللهُ رسولَه بها، فقال: {ادفَعْ بالتي هي أحسنُ السيئةَ}؛ أي: إذا أساء إليك أعداؤك بالقول والفعل؛ فلا تقابِلْهم بالإساءة؛ مع أنَّه يجوزُ معاقبة المسيء بمثل إساءته، ولكن ادْفَعْ إساءتهم إليك بالإحسان منك إليهم؛ فإنَّ ذلك فضلٌ منك على المسيء، ومن مصالح ذلك أنَّه تخفُّ الإساءة عنك في الحال وفي المستقبل، وأنَّه أدعى لجلب المسيء إلى الحقِّ، وأقرب إلى ندمه وأسفه ورجوعِهِ بالتوبة عمَّا فَعَلَ، ويتَّصِفُ العافي بصفة الإحسان، ويقهرُ بذلك عدوَّه الشيطان، ويستوجبُ الثواب من الربِّ؛ قال تعالى: {فَمَنْ عفا وأصلحَ فأجرُهُ على الله}، وقال تعالى: {ادفَعْ بالتي هي أحسنُ السيئةَ فإذا الذي بينَكَ وبينَهُ عداوةٌ كأنَّه وليٌّ حميمٌ. وما يُلَقَّاها}؛ أي: ما يوفَّق لهذا الخُلُق الجميل {إلاَّ الذين صَبَروا وما يُلَقَّاها إلاَّ ذو حظٍّ عظيم}.

وقوله: {نحن أعلم بما يَصِفون}؛ أي: بما يقولون من الأقوال المتضمِّنة للكفر والتكذيب بالحق، قد أحاط علمُنا بذلك، وقد حَلِمْنا عنهم وأمهَلْناهم وصبَرْنا عليهم، والحقُّ لنا، وتكذيبُهم لنا؛ فأنت يا محمد ينبغي لك أن تصبِرَ على ما يقولون، وتقابِلَهم بالإحسان. هذه وظيفة العبد في مقابلة المسيء من البشر.