تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 97

وَ قُلۡ رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ﴿ۙ۹۷﴾
اور تو کہہ اے میرے رب! میں شیطانوں کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ En
اور کہو کہ اے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہو
En
اور دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناه چاہتا ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رہی شیاطین کی بدسلوکی تو ان کے ساتھ حسن سلوک کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ شیاطین تو اپنے گروہ کے لوگوں کو دعوت دیتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ جہنم میں جھونکے جانے والوں میں شامل ہو جائیں۔پس شیطان کی بدسلوکی کے مقابلے میں بندۂ مومن کا وظیفہ وہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ نمائی فرمائی ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَقُ٘لْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ یعنی میں اپنی قدرت و قوت سے براء ت کا اظہار کرکے تیری قدرت و قوت کی پناہ پکڑتا ہوں۔ ﴿ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ۰۰ وَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ یعنی میں اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو ان شیاطین سے ملنے جلنے کی وجہ سے مجھے لاحق ہو سکتا ہے، نیز میں ان کی وسوسہ اندازی اور ایذارسانی سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں اور میں اس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو ان کی موجودگی اور ان کی وسوسہ اندازی کے باعث مجھے لاحق ہو سکتا ہے۔
یہ استعاذہ ہر قسم کے شر اور اس کی اصل سے پناہ طلبی ہے اس میں شیطان کی دراندازی، اس کا وسوسہ اور اس کی ایذارسانی وغیرہ سب داخل ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا قبول کرکے اسے شیطان کے شر سے پناہ دے دیتا ہے تو بندہ ہر شر سے محفوظ و مصئون ہو جاتا ہے اور اسے ہر بھلائی کی توفیق عطا ہو جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأما المسيء من الشياطين؛ فإنَّه لا يُفيد فيه الإحسانُ، ولا يدعو حِزْبَهُ إلاَّ لِيكونوا من أصحاب السعير؛ فالوظيفةُ في مقابلته أن يسترشِدَ بما أرشد الله إليه رسوله، فقال: {وقُل ربِّ أعوذُ بك}؛ [أي: أعتصم بحولك وقوَّتك متبرئًا من حولي وقوَّتي]، {من هَمَزات الشياطين. وأعوذُ بكَ ربِّ أن يحضُرونِ}؛ أي: أعوذُ بك من الشرِّ الذي يصيبُني بسبب مباشرتِهِم وهَمْزِهِم ومسِّهم، ومن الشرِّ الذي بسبب حضورِهِم ووسوستِهِم، وهذه استعاذةٌ من مادَّة الشرِّ كلِّه وأصله، ويدخُلُ فيه الاستعاذةُ من جميع نَزَغات الشيطان ومن مسِّه ووسوستِهِ؛ فإذا أعاذ اللهُ عبدَه من هذا الشرِّ، وأجاب دعاءَه؛ سَلِمَ من كلِّ شرٍّ، ووفِّقَ لكلِّ خير.