تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بنابریں انبیائے کرام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿هٰؔذِهٖۤاُمَّتُكُمْاُمَّةًوَّاحِدَةً ﴾ اے رسولوں کے گروہ! تمھاری جماعت ایک دین پر متفق ہے اور تمھارا رب بھی ایک ہے ﴿ فَاتَّقُوْنِ ﴾”پس تم مجھ سے ڈرو۔“ میرے احکام کی تعمیل کر کے اورمیرے زجر و توبیخ کے موجب امور سے اجتناب کر کے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کوانھی امور کا حکم دیا جن کا حکم اپنے رسولوں کو دیا کیونکہ اہل ایمان انبیاء و رسل کی پیروی کرنے والے اور انھی کے راستے پر گامزن ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یٰۤاَیُّهَاالَّذِیْنَاٰمَنُوْاكُلُوْامِنْطَیِّبٰتِمَارَزَقْنٰكُمْوَاشْكُرُوْالِلّٰهِاِنْكُنْتُمْاِیَّاهُتَعْبُدُوْنَ﴾ (البقرۃ:2؍172) ”اے اہل ایمان! جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں عطا کی ہیں،انھیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔“ پس انبیائے کرام سے نسبت رکھنے والوں اور دیگر لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال تعالى للرسل: {وإنَّ هذه أمَّتُكم أمَّةً}؛ أي: جماعتُكم يا معشرَ الرسل {واحدةً}: متفقةً على دينٍ واحدٍ وربُّكم واحدٌ. {فاتَّقونِ}: بامتثال أوامري واجتناب زواجري. وقد أمر الله المؤمنين بما أمر به المرسلين؛ لأنَّهم بهم يَقْتَدون وخلفَهم يسلُكون، فقال: {يا أيُّها الذين آمنوا كُلوا من طيِّبات ما رَزَقْناكم واشكُروا للهِ إنْ كنتُم إيَّاه تعبُدونَ}: فالواجب على كل المنتسبين إلى الأنبياء وغيرهم أن يَمْتَثِلوا هذا ويعملوا به.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔