تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 49

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ لَعَلَّہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۴۹﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، تاکہ وہ (لوگ) ہدایت پائیں۔ En
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں
En
ہم نے تو موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (بھی) دی کہ لوگ راه راست پر آجائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کرکے اسرائیلی قوم کو موسیٰ علیہ السلام کی معیت میں نجات بخشی تب موسیٰ علیہ السلام کو قوت اور طاقت حاصل ہوئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم اور اس کے شعائر کوغالب کریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ فرمایا کہ وہ آپ پر چالیس دن میں تورات نازل کرے گا۔ موسیٰ علیہ السلام اپنے رب کے مقرر کردہ وقت پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُ٘لِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِیْلًا لِّ٘كُ٘لِّ شَیْءٍ (الاعراف:7؍145) اور ہم نے ہر چیز کے متعلق نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل اس کے لیے تختیوں پر لکھ دی بنابریں یہاں فرمایا: ﴿ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ یعنی امرونہی اورثواب و عقاب کی تفاصیل کی معرفت حاصل کرکے شاید راہ راست پر گامزن ہو جائیں اور اپنے رب کے اسماء و صفات کی بھی معرفت حاصل کریں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولقد آتَيْنا موسى}: بعدما أهلكَ الله فرعونَ وخلَّص الشعبَ الإسرائيليَّ مع موسى وتمكَّن حينئذٍ من إقامة أمرِ الله فيهم وإظهارِ شعائرِهِ؛ وعدَه اللهُ أن ينزِّل عليه التوراةَ أربعين ليلةً، فذهب لميقاتِ ربِّه؛ قال الله تعالى: {وكَتَبْنا له في الألواح من كلِّ شيءٍ موعظةً وتفصيلاً لكلِّ شيءٍ}. ولهذا قال هنا: {لعلَّهم يهتدونَ}؛ أي: بمعرفة تفاصيل الأمر والنهي والثوابِ والعقابِ ويعرفونَ ربَّهم بأسمائِهِ وصفاتِهِ.