تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 48

فَکَذَّبُوۡہُمَا فَکَانُوۡا مِنَ الۡمُہۡلَکِیۡنَ ﴿۴۸﴾
تو انھوں نے دونوں کو جھٹلا دیا تو وہ ہلاک کیے گئے لوگوں میں سے ہوگئے۔ En
تو اُن لوگوں نے اُن کی تکذیب کی سو (آخر) ہلاک کر دیئے گئے
En
پس انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا آخر وه بھی ہلاک شده لوگوں میں مل گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور یہ بات واضح ہے کہ حق کو رد کرنے کے لیے یہ بات درست نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ یہ تکذیب اور عناد ہے، اس لیے فرمایا ﴿ فَكَذَّبُوْهُمَا۠ فَكَانُوْا مِنَ الْ٘مُهْلَكِیْنَ پس انھوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں ہو گئے۔ یعنی بنی اسرائیل کے آنکھوں دیکھتے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

من المعلوم أن هذا لا يَصْلُحُ لدفع الحقِّ، وأنه تكذيبٌ ومعاندةٌ، ولهذا قال: {فكذَّبوهما فكانوا من المُهْلَكينَ}: في الغرقِ في البحر وبنو إسرائيل ينظُرون.