تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 50

وَ جَعَلۡنَا ابۡنَ مَرۡیَمَ وَ اُمَّہٗۤ اٰیَۃً وَّ اٰوَیۡنٰہُمَاۤ اِلٰی رَبۡوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیۡنٍ ﴿٪۵۰﴾
اور ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو عظیم نشانی بنایا اور دونوں کو ایک بلند زمین کی طرف جگہ دی، جو رہنے کے لائق اور بہتے پانی والی تھی۔ En
اور ہم نے مریم کے بیٹے (عیسیٰ) اور ان کی ماں کو (اپنی) نشانی بنایا تھا اور ان کو ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں (نتھرا ہوا) پانی جاری تھا، پناہ دی تھی
En
ہم نے ابن مریم اور اس کی والده کو ایک نشانی بنایا اور ان دونوں کو بلند صاف قرار والی اور جاری پانی والی جگہ میں پناه دی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّهٗۤ اٰیَةً یعنی ہم نے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام پر احسان کیا، ان کو اور ان کی والدہ کو انتہائی تعجب انگیز نشان بنا دیا کیونکہ حضرت مریم علیہا السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے اپنے پیٹ میں رکھا اور پھر آپ کو جنم دیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے گہوارے میں کلام کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر بڑے بڑے معجزات دکھائے۔ ﴿ وَّاٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ یعنی ہم نے ان دونوں کو ایک بلند مقام پر پناہ دی اور یہ اس وقت کی بات ہے… واللہ اعلم … جب حضرت جناب مریم علیہا السلام نے عیسیٰ علیہ السلام کو جنم دیا۔ ﴿ ذَاتِ قَ٘رَارٍ یعنی آرام دہ ٹھکانا ﴿ مَعِیْنٍ یعنی جاری چشمے کا پانی اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔﴿ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ کر دی ہے تیرے رب نے تیرے نیچے یعنی اس جگہ سے بہت نیچے جہاں حضرت مریم علیہا السلام نے پناہ لی تھی اور یہ اس لیے کہا گیا کیونکہ آپ بلند جگہ پر تھیں۔ ﴿ سَرِیًّا یعنی ندی اور وہ چشمے کا بہتا ہوا پانی ہے۔ ﴿ وَهُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّاٞ۰۰فَ٘كُ٘لِیْ وَاشْ٘رَبِیْ وَقَ٘رِّیْ عَیْنًا (مریم:19؍25،26) تو کھجور کے تنے کو ہلا تجھ پر تازہ کھجوریں گریں گی۔ کھا، پی اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وامتَنَنَّا على عيسى ابن مريم وجَعَلْناه وأمَّه من آيات الله العجيبة؛ حيث حملتْه وولدتْه من غيرِ أبٍ، وتكلَّم في المهد صبيًّا، وأجرى الله على يديه من الآيات ما أجرى. {وآوَيْناهما إلى ربوةٍ}؛ أي: مكان مرتفع، وهذا والله أعلم وقتَ وضعِها، {ذاتِ قَرارٍ}؛ أي: مستقَرٍّ وراحةٍ، {ومَعين}؛ أي: ماء جارٍ؛ بدليلِ قوله: {قد جعل ربُّكِ تحتَكِ}؛ أي: تحت المكان الذي أنت فيه لارتفاعه {سَرِيًّا}؛ أي: نهراً، وهو المَعِيْن. {وهُزِّي إليكِ بجِذْعِ النخلةِ تُساقِطْ عليك رُطَباً جَنِيًّا. فكُلي واشْرَبي وقَرِّي عيناً}.