تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 46

اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ فَاسۡتَکۡبَرُوۡا وَ کَانُوۡا قَوۡمًا عَالِیۡنَ ﴿ۚ۴۶﴾
فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو انھوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے۔ En
(یعنی) فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے
En
فرعون اور اس کے لشکروں کی طرف، پس انہوں نے تکبر کیا اور تھے ہی وه سرکش لوگ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰؔى وَاَخَاهُ هٰؔرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَاۡىِٕهٖ پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ مثلاً: ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ﴿فَاسْتَكْبَرُوْا۠ پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ﴿وَكَانُوْا قَوْمًا عَالِیْ٘نَ اور تھے وہ سرکش لوگ۔ یعنی ان کا وصف غلبہ، قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقال هنا: {ثم أرسَلْنا موسى وأخاه هارونَ بآياتِنا وسلطانٍ مُبينٍ. إلى فرعونَ وملئِهِ}: كهامان وغيره من رؤسائهم، {فاستَكْبَروا}؛ أي: تكبَّروا عن الإيمان بالله واستكبروا على أنبيائِهِ، {وكانوا قوماً عالينَ}؛ أي: وصفهم العلوُّ والقهرُ والفسادُ في الأرض، فلهذا صدر منهم الاستكبار، ذلك غيرُ مستكثَرٍ منهم.