(آیت 46) ➊ {اِلٰىفِرْعَوْنَوَمَلَاۡىِٕهٖفَاسْتَكْبَرُوْا:} یہاں وہ بات حذف کر دی ہے جسے فرعون اور اس کے سرداروں نے سخت تکبر سے ٹھکرا دیا، کیونکہ اس سے پہلے تمام انبیاء کے تذکرے میں اس کا بیان کئی بار ہو چکا ہے، یعنی: «اَنِاعْبُدُوااللّٰهَمَالَكُمْمِّنْاِلٰهٍغَيْرُهٗاَفَلَاتَتَّقُوْنَ»[المؤمنون: ۳۲]”کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ کے بیان کے متعلق ہر رسول کی دعوت یہی تھی۔ (دیکھیے انبیاء: ۲۵) ➋ { فَاسْتَكْبَرُوْاوَكَانُوْاقَوْمًاعَالِيْنَ:”فَاسْتَكْبَرُوْا“} میں سین اور تاء کا اضافہ تکبر کی شدت پر دلالت کرتا ہے۔ {”قَوْمًاعَالِيْنَ“} کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
46-1استکبار اور اپنے کو بڑا سمجھنا، اس کی بنیادی وجہ بھی وہی عقیدہ آخرت سے انکار اور اسباب دنیا کی فروانی ہی تھی، جس کا ذکر پچھلی قوموں کے واقعات میں گزرا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف تو وہ اکڑ گئے اور وہ تھے ہی سرکش [48] لوگ
[48] یعنی وہ متکبر قسم کے لوگ تھے جو اپنے آپ کو عام انسانوں سے کوئی بالاتر مخلوق سمجھتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دریا برد فرعون ٭٭
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کے پاس پوری دلیلوں کے ساتھ اور زبردست معجزوں کے ساتھ بھیجا لیکن انہوں نے بھی سابقہ کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب ومخالفت کی اور سابقہ کفار کی طرح یہی کہا کہ ہم اپنے جیسے انسانوں کی نبوت کے قائل نہیں ان کے دل بھی بالکل ان جیسے ہی ہو گئے بالآخر ایک ہی دن میں ایک ساتھ سب کو اللہ تعالیٰ نے دریا برد کر دیا۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو لوگوں کی ہدایت کے لیے تورات ملی۔ دوبارہ مومنوں کے ہاتھوں کافر ہلاک کئے گئے جہاد کے احکام اترے اس طرح عام عذاب سے کوئی امت فرعون اور قوم فرعون یعنی قبطیوں کے بعد ہلاک نہیں ہوئی۔ ایک اور آیت میں فرمان ہے «وَلَقَدْآتَيْنَامُوسَىالْكِتَابَمِنبَعْدِمَاأَهْلَكْنَاالْقُرُونَالْأُولَىٰبَصَائِرَلِلنَّاسِوَهُدًىوَرَحْمَةًلَّعَلَّهُمْيَتَذَكَّرُونَ»[28-القص: 43] گزشتہ امتوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب عنائت فرمائی جو لوگوں کے لیے بصیرت ہدایت اور رحمت تھی۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّاَرْسَلْنَامُوْسٰؔىوَاَخَاهُهٰؔرُوْنَاِلٰىفِرْعَوْنَوَمَلَاۡىِٕهٖ ﴾”پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور واضح برہان کے ساتھ، فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔“مثلاً: ہامان اور دیگر سرداران قوم۔ ﴿فَاسْتَكْبَرُوْا۠﴾ پس تکبر کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کے انبیاء کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔ ﴿وَكَانُوْاقَوْمًاعَالِیْ٘نَ﴾”اور تھے وہ سرکش لوگ۔“ یعنی ان کا وصف غلبہ، قہر اور فساد فی الارض تھا اس لیے ان سے تکبر صادر ہوا اور اسے وہ کوئی بری بات نہیں سمجھتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقال هنا: {ثم أرسَلْنا موسى وأخاه هارونَ بآياتِنا وسلطانٍ مُبينٍ. إلى فرعونَ وملئِهِ}: كهامان وغيره من رؤسائهم، {فاستَكْبَروا}؛ أي: تكبَّروا عن الإيمان بالله واستكبروا على أنبيائِهِ، {وكانوا قوماً عالينَ}؛ أي: وصفهم العلوُّ والقهرُ والفسادُ في الأرض، فلهذا صدر منهم الاستكبار، ذلك غيرُ مستكثَرٍ منهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔