تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 45

ثُمَّ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی وَ اَخَاہُ ہٰرُوۡنَ ۬ۙ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۴۵﴾
پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی آیات اور واضح غلبہ دے کر بھیجا۔ En
پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور دلیل ظاہر دے کر بھیجا
En
پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیل کے ساتھ بھیجا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰؔى پھر ہم نے موسیٰ (بن عمران، کلیم اللہ) کو بھیجا ﴿ وَاَخَاهُ هٰؔرُوْنَ اور (ان کے ساتھ) ان کے بھائی ہارون کو جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ حضرت ہارون کو نبوت کے معاملے میں ان کے ساتھ شریک کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمالی۔ ﴿بِاٰیٰتِنَا اپنی نشانیوں کے ساتھ۔ جو ان کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿ وَسُلْطٰ٘نٍ مُّبِیْنٍ اور واضح برہان کے ساتھ۔ ان دلائل میں ایسی قوت تھی کہ وہ دلوں پر غالب آجاتے اور اپنی قوت کی بنا پر دلوں میں گھر کر لیتے اور اہل ایمان کے دل ان کو مان لیتے اور معاندین حق کے خلاف حجت قائم ہو جاتی۔
اور یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے: ﴿ وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰؔى تِسْعَ اٰیٰتٍۭؔ بَیِّنٰتٍ (بنی اسرآء یل:17؍101) اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نو کھلی کھلی نشانیاں عطا کیں۔ اس لیے معاندین حق کے سردار فرعون نے ان کو پہچان لیا لیکن عناد کا راستہ اختیار کیا۔ ﴿ فَسْـَٔلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجیے! جب موسیٰ یہ نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے ﴿فَقَالَ تو فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا ﴿ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰؔى مَسْحُوْرًا (بنی اسرآء یل:17؍101) اے موسیٰ! میں تو تجھے سحر زدہ خیال کرتا ہوں۔ ﴿ قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَاِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْ٘بُوْرًؔا (بنی اسرآء یل: 17؍102) موسیٰ نے کہا: تو جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں اللہ کے سوا کسی نے نازل نہیں کیں۔ اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ہلاک ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا (النمل:27؍14) انھوں نے محض ظلم اور تکبر کی بنا پر ان نشانیوں کو جھٹلایا حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو مان لیا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقوله: {ثم أرسلْنا موسى}: ابن عمرانَ كليمَ الرحمن، {وأخاه هارونَ}: حين سأل ربَّه أن يُشْرِكَه في أمره فأجاب سُؤْلَه، {بآياتنا}: الدالَّة على صدقهما وصحَّة ما جاءا به، {وسلطانٍ مُبينٍ}؛ أي: حجَّة بيَّنة من قوتها أن تَقْهَرَ القلوب وتتسلَّط عليها لقوَّتها فتنقادَ لها قلوبُ المؤمنين وتقومَ الحجَّة البيِّنة على المعاندين. وهذا كقوله: {ولقد آتَيْنا موسى تسعَ آياتٍ بيِّناتٍ}: ولهذا رئيسُ المعاندين عَرَفَ الحقَّ وعاند. {فاسأل بني إسرائيلَ إذْ جاءَهم}: بتلك الآياتِ البيِّناتِ، فقال له [فرعون]: {إنِّي لأظنُّك يا موسى مسحوراً}. فقال موسى: {لقدْ علمتَ ما أنزلَ هؤلاء إلا ربُّ السمواتِ والأرض بصائرَ وإنِّي لأظنُّك يا فرعونُ مَثْبوراً}. وقال تعالى: {وجَحَدوا بها واسْتَيْقَنَتْها أنفسُهم ظُلماً وعلوًّا}.