تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 32

فَاَرۡسَلۡنَا فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿٪۳۲﴾
پھر ان میں انھی سے ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں؟ En
اور ان ہی میں سے ان میں ایک پیغمبر بھیجا (جس نے ان سے کہا) کہ خدا ہی کی عبادت کرو (کہ) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں
En
پھر ان میں خود ان میں سے (ہی) رسول بھی بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم کیوں نہیں ڈرتے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّؔنْهُمْ پس ان کے اندر انھی میں سے (یعنی انھی کی جنس سے) ایک رسول مبعوث کیا جس کے حسب و نسب اور صداقت کے بارے میں انھیں پورا علم تھاتاکہ وہ اطاعت کرنے میں جلدی کریں اور رسول ان کی کراہت اور نفرت سے بہت دور ہو۔ اس رسول نے بھی ان کو اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف اس سے پہلے رسول اپنی قوموں کو دعوت دیتے چلے آ رہے تھے ﴿ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ کہ اللہ کی عبادت کرو تمھارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پس تمام انبیاء مرسلین اس دعوت پر متفق تھے۔ یہ اولین دعوت تھی جس کی طرف تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو بلایا، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دینا، اس حقیقت سے آگاہ کرنا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے، غیر اللہ کی عبادت سے روکنا اور غیر اللہ کی عبادت کے بطلان اور فساد سے آگاہ کرنا۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ کیا تم (اپنے رب سے) ڈرتے نہیں؟ کہ تم خود ساختہ معبودوں اور بتوں سے اجتناب کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأرسَلْنا فيهم رسولاً منهم}: من جنسِهِم يعرفون نسبه وحسبه وصدقَه؛ ليكونَ ذلك أسرعَ لانقيادِهم إذا كان منهم وأبعد عن اشمئزازِهم، فدعا إلى ما دعتْ إليه الرسلُ أممهم: {أنِ اعبدوا الله ما لكم من إلهٍ غيرُهُ}: فكلُّهم اتَّفقوا على هذه الدعوة، وهي أول دعوة يدعون بها أممهم؛ الأمر بعبادة الله، والإخبار أنَّه المستحقُّ لذلك، والنهي عن عبادة ما سواه، والإخبار ببطلان ذلك وفساده، ولهذا قال: {أفلا تتَّقونَ}: ربَّكم فتَجْتَنِبوا هذه الأوثان والأصنام.