اور اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جنھوں نے کفر کیا اورآخرت کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہم نے انھیں دنیا کی زندگی میں خوش حال رکھا تھا، کہا یہ نہیں ہے مگر تمھارے جیسا ایک بشر، جو اس میں سے کھاتا ہے جس میں سے تم کھاتے ہو اور اس میں سے پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔
En
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے اور آخرت کے آنے کو جھوٹ سمجھتے تھے اور دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کو آسودگی دے رکھی تھی۔ کہنے لگے کہ یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے، جس قسم کا کھانا تم کھاتے ہو، اسی طرح کا یہ بھی کھاتا ہے اور جو پانی تم پیتے ہو اسی قسم کا یہ بھی پیتا ہے
اور سرداران قوم نے جواب دیا، جو کفر کرتے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیوی زندگی میں خوشحال کر رکھا تھا، کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے، تمہاری ہی خوراک یہ بھی کھاتا ہے اور تمہارے پینے کا پانی ہی یہ پیتا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَقَالَالْمَلَاُمِنْقَوْمِهِالَّذِیْنَكَفَرُوْاوَؔكَذَّبُوْابِلِقَآءِالْاٰخِرَةِوَاَ٘تْرَفْنٰهُمْفِیالْحَیٰوةِالدُّنْیَا﴾ یعنی ان کے رؤساء نے جن میں کفروعناد، زندگی بعد موت اور جزا و سزا کا انکار جمع تھے اور ان کو دنیاوی زندگی کی خوش حالی نے سرکش بنا دیا تھا، اپنے نبی کے ساتھ معارضہ کرتے، اس کو جھٹلاتے اور لوگوں کو اس سے ڈراتے ہوئے کہا: ﴿مَاهٰؔذَاۤاِلَّابَشَرٌمِّؔثْلُكُمْ﴾”نہیں ہے یہ مگر انسان تم جیساہی۔“ یعنی تمھاری جنس میں سے ﴿ یَ٘اْكُ٘لُمِمَّاتَاْكُلُوْنَمِنْهُوَیَشْرَبُمِمَّاتَ٘شْ٘رَبُوْنَ﴾”وہی کچھ کھاتا پیتا ہے جو تم کھاتے پیتے ہو۔“ پس اسے کس چیز میں تم پر فضیلت حاصل ہے؟ وہ فرشتہ کیوں نہیں کہ وہ کھانا کھاتا نہ پانی پیتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال {الملأ من قومِهِ الذين كَفَروا وكذَّبوا بلقاءِ الآخرة وأتْرَفْناهم في الحياة الدنيا}؛ أي: قال الرؤساءُ الذين جَمَعوا بين الكفرِ والمعاندةِ وإنكار البعثِ والجزاء، وأطغاهم ترفُهم في الحياة الدُّنيا؛ معارضةً لنبيِّهم وتكذيباً وتحذيراً منه. {ما هذا إلاَّ بشرٌ مثلُكم}؛ أي: من جنسكم، {يأكُلُ ممَّا تأكُلونَ منه ويشربُ ممَّا تشرَبونَ}: فما الذي يُفَضِّلُه عليكم؟! فهلاَّ كان ملكاً لا يأكل الطعام ولا يشرب الشراب!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔