تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 31

ثُمَّ اَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِیۡنَ ﴿ۚ۳۱﴾
پھر ان کے بعد ہم نے اور زمانے کے لوگ پیدا کیے۔ En
پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور جماعت پیدا کی
En
ان کے بعد ہم نے اور بھی امت پیدا کی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَ٘رْنًا اٰخَرِیْنَ پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری امت پیدا کی۔ بظاہر اس سے مراد ثمود، یعنی صالح علیہ السلام کی قوم ہے کیونکہ یہ قصہ ان کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر نوحاً وقومه وكيف أهلكهم؛ قال: {ثم أنشأنا من بعْدِهم قرناً آخرينَ}: الظاهر أنَّهم ثمودُ قومُ صالح عليه السلام؛ لأنَّ هذه القصة تشبه قصتهم.