تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 28

فَاِذَا اسۡتَوَیۡتَ اَنۡتَ وَ مَنۡ مَّعَکَ عَلَی الۡفُلۡکِ فَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ نَجّٰنَا مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۲۸﴾
پھر جب تو اور جو تیرے ساتھ ہیں، کشتی پر چڑھ جائو تو کہہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔ En
اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ جاؤ تو (خدا کا شکر کرنا اور) کہنا کہ سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے۔ جس نے ہم کو نجات بخشی ظالم لوگوں سے
En
جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر باطمینان بیٹھ جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ کے لئے ہی ہے جس نے ہمیں ﻇالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَمَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰؔىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فإذا استويتَ أنت ومن مَعَكَ على الفِلك}؛ أي: علوتُم عليها واستقلَّتْ بكم في تيارِ الأمواج ولُججِ اليمِّ؛ فاحْمَدوا الله على النجاة والسلامة. وقل: {الحمدُ لله الذي نجَّانا من القوم الظالمينَ}: وهذا تعليمٌ منه له ولمن معه أن يقولوا هذا شكراً له وحمداً على نَجاتِهِم من القوم الظالمين في عملهم وعذابهم.