تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاِذَااسْتَوَیْتَاَنْتَوَمَنْمَّعَكَعَلَىالْفُلْكِ ﴾ یعنی جب تم لوگ کشتی پر سوار ہو جاؤ اور کشتی سرکش موجوں پر تیرنے لگے تو نجات اور سلامتی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو ﴿فَقُلِالْحَمْدُلِلّٰهِالَّذِیْنَجّٰؔىنَامِنَالْقَوْمِالظّٰلِمِیْنَ ﴾”اور کہو: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں ظالموں سے نجات دی۔“ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے اصحاب کے لیے تعلیم تھی کہ وہ ظالم کے اعمال اور عذاب سے نجات پر اللہ تعالیٰ کے شکر اور اس کی ستائش کے طور پر یہ کلمات کہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فإذا استويتَ أنت ومن مَعَكَ على الفِلك}؛ أي: علوتُم عليها واستقلَّتْ بكم في تيارِ الأمواج ولُججِ اليمِّ؛ فاحْمَدوا الله على النجاة والسلامة. وقل: {الحمدُ لله الذي نجَّانا من القوم الظالمينَ}: وهذا تعليمٌ منه له ولمن معه أن يقولوا هذا شكراً له وحمداً على نَجاتِهِم من القوم الظالمين في عملهم وعذابهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔