تو ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا، پھر جب ہمارا حکم آجائے اور تنور ابل پڑے تو ہر چیز میں سے دو قسمیں (نرومادہ) دونوں کو اور اپنے گھر والوں کو اس میں داخل کر لے، مگر ان میں سے وہ جس پر پہلے بات طے ہو چکی اور مجھ سے ان کے بارے میں بات نہ کرنا جنھوں نے ظلم کیا ہے، وہ یقینا غرق کیے جانے والے ہیں۔
En
پس ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے ایک کشتی بناؤ۔ پھر جب ہمارا حکم آ پہنچے اور تنور (پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو سب (قسم کے حیوانات) میں جوڑا جوڑا (یعنی نر اور مادہ) دو دو کشتی میں بٹھا دو اور اپنے گھر والوں کو بھی، سو ان کے جن کی نسبت ان میں سے (ہلاک ہونے کا) حکم پہلے صادر ہوچکا ہے۔ اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا، وہ ضرور ڈبو دیئے جائیں گے
تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنا۔ جب ہمارا حکم آجائے اور تنور ابل پڑے تو، تو ہر قسم کا ایک ایک جوڑا اس میں رکھ لے اور اپنے اہل کو بھی، مگر ان میں سے جن کی بابت ہماری بات پہلے گزر چکی ہے۔ خبردار جن لوگوں نے ﻇلم کیا ہے ان کے بارے میں مجھ سے کچھ کلام نہ کرنا وه تو سب ڈبوئے جائیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاَوْحَیْنَاۤاِلَیْهِ ﴾ ہم نے حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرما کر، اس کی طرف وقوع عذاب سے قبل، ایک سبب اور وسیلہ نجات کے متعلق وحی کی۔ ﴿اَنِاصْنَعِالْفُلْكَ ﴾”یہ کہ کشتی تیار کر“﴿ بِاَعْیُنِنَاوَوَحْیِنَا ﴾ یعنی ہمارے حکم کے مطابق اور ہماری مدد سے تو ہماری حفاظت اور نگرانی میں ہے ہم تجھ کو دیکھتے اور سنتے ہیں۔ ﴿ فَاِذَاجَآءَؔاَمْرُنَا ﴾”پس جب ہمارا حکم آجائے۔“ جس کے ذریعے سے ان کو عذاب دیا گیا تھا۔ ﴿ وَفَارَالتَّنُّوْرُ ﴾ یعنی زمین سے پانی پھوٹ پڑے، چشمے بہہ نکلیں حتیٰ کہ آگ جلانے والی جگہوں سے بھی پانی نکلنے لگے جہاں سے عادت کے مطابق پانی کا نکلنا بہت بعید ہوتا ہے۔
﴿ فَاسْلُكْفِیْهَامِنْكُ٘لٍّزَوْجَیْنِاثْنَیْنِ ﴾ تو تمام حیوانات میں سے ہر جنس سے ایک نر اور مادہ، کشتی میں داخل کرلے تاکہ تمام حیوانات کی نسل باقی رہے جن کے وجود کو زمین میں باقی رکھنے کا حکمت ربانی تقاضا کرتی ہے۔ ﴿ وَاَهْلَكَ ﴾ یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں بٹھا لے۔ ﴿ اِلَّامَنْسَبَقَعَلَیْهِالْقَوْلُ ﴾”سوائے اس کے جس کی بابت (ہمارا) قول گزر چکا۔“ جیسے جناب نوح علیہ السلام کا بیٹا۔ ﴿ وَلَاتُخَاطِبْنِیْفِیالَّذِیْنَظَلَمُوْا﴾ یعنی مجھ سے یہ درخواست نہ کرنا کہ میں ان کو نجات دوں کیونکہ قضاء و قدر کے مطابق حتمی فیصلہ ہو چکا ہے کہ انھیں غرق ہونا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فأوحينا إليه}: عند استجابتنا له سبباً ووسيلةً للنجاة قبل وقوع أسبابِهِ: {أنِ اصْنَع الفُلْكَ}؛ أي: السفينة {بأعيننا ووحينا}؛ أي: بأمرِنا لك ومعونتنا، وأنت في حفظنا وكلاءتنا؛ بحيث نراك ونسمعك. {فإذا جاء أمرنا}: بإرسال الطوفان الذي عُذِّبوا به، {وفار التَّنُّورُ}؛ أي: فارت الأرض وتفجَّرت عيوناً حتى محلُّ النار الذي لم تجرِ العادة إلاَّ ببعدِهِ عن الماء. {فاسْلُكْ فيها من كلٍّ زوجينِ اثنينِ}؛ أي: أدخل في الفلك من كلِّ جنس من الحيوانات ذكراً وأنثى تبقى مادةَ النسل لسائر الحيوانات التي اقتضتِ الحكمةُ الربَّانيَّة إيجادها في الأرض. {وأهلك}؛ أي: أدخلهم {إلاَّ مَن سبقَ عليه القولُ}: كابنه، {ولا تخاطِبْني في الذين ظَلَموا}؛ أي: لا تَدْعُني أن أنجيهم؛ فإنَّ القضاء والقدَرَ قد حتم. {إنَّهُم مغرقون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔