تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 29

وَ قُلۡ رَّبِّ اَنۡزِلۡنِیۡ مُنۡزَلًا مُّبٰرَکًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡمُنۡزِلِیۡنَ ﴿۲۹﴾
اور تو کہہ اے میرے رب! مجھے اتار، ایسا اتارنا جو بابرکت ہو اور تو سب اتارنے والوں سے بہتر ہے۔ En
اور (یہ بھی) دعا کرنا کہ اے پروردگار ہم کو مبارک جگہ اُتاریو اور تو سب سے بہتر اُتارنے والا ہے
En
اور کہنا کہ اے میرے رب! مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر ہے اتارنے والوں میں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْ٘زَلًا مُّبٰرَؔكًا وَّاَنْتَ خَیْرُ الْمُنْ٘زِلِیْ٘نَ یعنی تمھیں ایک نعمت ابھی عطا ہونا باقی ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو کہ وہ تمھیں بابرکت منزل میسر کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کی دعا سن لی اور فرمایا: ﴿ وَقُ٘ضِیَ الْاَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَقِیْلَ بُعْدًا لِّلْ٘قَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (ھود:11؍44) اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہہ دیا گیا لعنت ہے ظالموں پر۔ اور فرمایا: ﴿ قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰ٘مٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَیْكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ (ھود:11؍48) کہا گیا اے نوح! اترجا، سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتیں ہوں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقل ربِّ أنزِلْني منزلاً مباركاً وأنت خير المنزِلينَ}؛ أي: وبقيتْ عليكُم نعمةٌ أخرى؛ فادعوا الله فيها، وهي أن ييسِّرَ الله لكم منزلاً مباركاً، فاستجاب الله دعاءه؛ قال الله: {وقُضِيَ الأمرُ واستوتْ على الجوديِّ وقيل بُعداً للقوم الظَّالمين ... } إلى أن قال: {قيلَ يا نوحُ اهبِطْ بسلام منَّا وبركاتٍ عليك وعلى أمم ممَّن معكَ ... } الآية.