تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب نوح علیہ السلام نے دیکھا کہ ان کی دعوت سوائے ان کے فرار کے انھیں کوئی فائدہ نہیں دے رہی تو ﴿ قَالَرَبِّانْ٘صُرْنِیْبِمَاكَذَّبُوْنِ ﴾”انھوں نے عرض کیا: اے میرے رب! ان لوگوں نے جو مجھے جھٹلایا ہے اس پر تو ہی میری مدد فرما۔“ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے نصرت کی درخواست کی تھی کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو ضائع کیا اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی۔ حضرت نوح نے کہا: ﴿ رَّبِّلَاتَذَرْعَلَىالْاَرْضِمِنَالْ٘كٰفِرِیْنَدَیَّارًؔا۰۰اِنَّكَاِنْتَذَرْهُمْیُضِلُّوْاعِبَادَكَوَلَایَلِدُوْۤااِلَّافَاجِرًاكَفَّارًؔا﴾ (نوح:71؍26،27) ”اے میرے رب! تو کافروں میں کسی کو زمین پر بسا نہ رہنے دے۔ تو اگر ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور وہ جس اولاد کو جنم دیں گے وہ بھی فاجر اور کافر ہی ہو گی۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدْنَادٰىنَانُوْحٌفَلَنِعْمَالْمُجِیْبُوْنَ ﴾ (الصافات:37؍75) ”نوح نے ہم کو پکارا، پس ہم بہت اچھی طرح جواب دینے والے ہیں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما رأى نوحٌ أنَّه لا يفيدُهم دعاؤه إلاَّ فراراً؛ {قال ربِّ انْصُرْني بما كذَّبونِ}: فاستنصر ربَّه عليهم غضباً لله حيث ضيَّعوا أمره وكذَّبوا رسله. وقال: {ربِّ لا تَذَرْ على الأرضِ من الكافرين دَيَّاراً. إنَّك إن تَذَرْهُم يُضِلُّوا عبادَكَ ولا يَلِدوا إلاَّ فاجراً كفَّاراً}. قال تعالى: {وَلَقَدْ نادانا نوحٌ فَلَنِعْمَ المجيبونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔