تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 22

وَ عَلَیۡہَا وَ عَلَی الۡفُلۡکِ تُحۡمَلُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾
اور انھی پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو۔ En
اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو
En
اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَعَلَیْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو۔ یعنی خشکی پر تم ایک شہر سے دوسرے شہر تک ان جانوروں پر اپنے بوجھ لاد کر لے جاتے ہو جہاں تم سخت مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے، جیسے سمندر میں تمھارے سفر کے لیے کشتیاں بنائیں جو تمھیں اور تمھارے سامان کو، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ اٹھائے پھرتی ہیں۔
پس وہ ہستی جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں، جس نے مختلف انواع کے احسانات كيے ہیں اور جس نے اپنی نوازشوں کی بارش کی، وہی کامل شکر، کامل حمدوثنا اور عبودیت میں پوری کوشش کی مستحق ہے اور وہ اس چیز کی بھی مستحق ہے کہ اس کی نعمتوں سے اس کی نافرمانی پر مدد نہ لی جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وعليها وعلى الفُلْكِ تُحْمَلونَ}؛ أي: جعلها سفناً لكم في البرِّ، تحملون عليها أثقالكم إلى بلدٍ لم تكونوا بالغيهِ إلاَّ بشِقِّ الأنفس؛ كما جعل لكم السفنَ في البحر تحملكم وتحمل متاعكم قليلاً كان أو كثيراً؛ فالذي أنعم بهذه النعم وصنَّف أنواع الإحسان وأدرَّ علينا من خيره المدرار هو الذي يستحقُّ كمالَ الشُّكْر وكمال الثناء والاجتهاد في عبوديَّته وأن لا يُستعان بنعمه على معاصيهِ.