اور بلاشبہ تمھارے لیے چوپاؤں میں یقینا بڑی عبرت ہے، ہم تمھیں اس میں سے جو ان کے پیٹوں میں ہے، پلاتے ہیں اور تمھارے لیے ان میں بہت سے فائدے ہیں اور انھی سے تم کھاتے ہو۔
En
اور تمہارے لئے چارپایوں میں بھی عبرت (اور نشانی) ہے کہ ان کے پیٹوں میں ہے اس سے ہم تمہیں (دودھ) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور بعض کو تم کھاتے بھی ہو
تمہارے لئے چوپایوں میں بھی بڑی بھاری عبرت ہے۔ ان کے پیٹوں میں سے ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں اور بھی بہت سے نفع تمہارے لئے ان میں ہیں ان میں سے بعض بعض کو تم کھاتے بھی ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاِنَّلَكُمْفِیالْاَنْعَامِلَعِبْرَةً﴾ یعنی یہ تم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے مویشيوں، یعنی اونٹوں، گایوں اور بکریوں کو مسخر کیا۔ اس میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور فائدہ اٹھانے والوں کے لیے فوائد ہیں۔ ﴿ نُسْقِیْكُمْمِّؔمَّافِیْبُطُوْنِهَا﴾”پلاتے ہیں ہم تمھیں اس سے جو ان کے پیٹوں میں ہے۔“ یعنی دودھ، جو گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے جو خالص اور پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار ہے ﴿ وَلَكُمْفِیْهَامَنَافِعُكَثِیْرَةٌ ﴾ یعنی ان کی پشم، اون اور بالوں میں تمھارے لیے بہت سے فائدے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کے چمڑے سے تمھارے لیے خیمے بنائے جنھیں تم اپنے سفر اور پڑاؤ کے دوران (استعمال میں) بہت ہلکا پاتے ہو۔ ﴿ وَّمِنْهَاتَاْكُلُوْنَ﴾ یعنی تم ان كے گوشت اور چربی سے حاصل شدہ بہترین کھانا کھاتے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ومن نعمه عليكم أن سَخَّرَ لكم الأنعام؛ الإبل والبقر والغنم، فيها عبرةٌ للمعتبرين ومنافع للمنتفعين، {نُسْقيكُم ممَّا في بُطونها}: من لبنٍ يخرُجُ من بين فَرْثٍ ودمٍ خالص سائغ للشاربين، {ولكم فيها منافعُ كثيرةٌ}: من أصوافها وأوبارها وأشعارِها، وجعل لكم من جلودِ الأنعام بيوتاً تستخفُّونها يوم ظَعْنِكُم ويومَ إقامتِكُم، {ومنها تأكُلون}: أفضل المآكل من لحم وشحم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔