(آیت 22){وَعَلَيْهَاوَعَلَىالْفُلْكِتُحْمَلُوْنَ: ”عَلَيْهَا“} (ان پر) سے مراد اونٹ ہیں، جو صحرا کے جہاز ہیں۔ عرب میں سواری اور بار برداری کے لیے زیادہ تر اونٹ ہی استعمال ہوتے تھے اور اونٹوں کے لیے ”خشکی کے جہاز“ کا استعارہ قدیم زمانے سے معروف ہے۔ ذو الرُّمّہ شاعر اپنی اونٹنی کے متعلق کہتا ہے: { طُرُوْقًاوَجُلْبُالرَّحْلِمَشْدُوْدَةٌبِهَا سَفِيْنَةُبَرٍّتَحْتَخَدِّيْزِمَامُهَا} ”رات کا وقت تھا اور {”جُلْبُالرَّحْلِ“} (پالان کی لکڑیوں) کے ساتھ خشکی کا جہاز بندھا ہوا تھا، جس کی مہار میرے رخسار کے نیچے تھی۔“ (اضواء البیان) خشکی کے جہازوں کی مناسبت سے بحری جہازوں کی نعمت کا ذکر بھی فرما دیا ہے۔ ”سوار ہوتے ہو“ کے بجائے ”سوار کیے جاتے ہو “ کا مطلب یہ ہے کہ اونٹ (اور ہاتھی) جیسے عظیم الجثّہ جانوروں پر سوار ہونا اور انھیں اپنا تابع فرمان بنانا تمھارے بس کی بات نہیں، بلکہ ان پر سوار کرنا اور انھیں تمھارے تابع فرمان بنا دینا ہمارا کام ہے، یقین نہ ہو تو ان سے بدرجہا چھوٹے جانوروں، مثلاً ہرن، بھیڑیے، لومڑی، گیدڑ اور چیتے وغیرہ کو ان کی طرح مانوس کرکے دکھاؤ۔ اسی طرح ہماری عظیم الشان مخلوق سمندر کہ جس کے مقابلے میں تم اتنے بھی نہیں جتنا صحرا کے مقابلے میں ریت کا ذرہ، اس پر سوار ہونا اور اس کا تمھیں اپنے سینے پر اٹھائے رکھنا تمھارے بس کی بات نہیں، یہ تو ہم ہیں جو تمھیں کشتیوں میں سوار کرکے اسے تمھارے تابع کر دیتے ہیں، اگر یقین نہ ہو تو ان طوفانوں کو یاد کرو جن کی بلاخیزی سے پہاڑوں جیسے جہاز آنکھ جھپکنے میں اس کی آغوش میں ڈوب جاتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
22-1یعنی رب کی ان نعمتوں سے تم فیض یاب ہوتے ہو، کیا وہ اس لائق کہ تم اس کا شکر ادا کرو اور صرف اسی ایک کی عبادت اور اطاعت کرو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ نیز ان پر کشتیوں پر سوار بھی ہوا کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَعَلَیْهَاوَعَلَىالْفُلْكِتُحْمَلُوْنَ ﴾”اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو۔“ یعنی خشکی پر تم ایک شہر سے دوسرے شہر تک ان جانوروں پر اپنے بوجھ لاد کر لے جاتے ہو جہاں تم سخت مشقت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے، جیسے سمندر میں تمھارے سفر کے لیے کشتیاں بنائیں جو تمھیں اور تمھارے سامان کو، خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ اٹھائے پھرتی ہیں۔
پس وہ ہستی جس نے یہ تمام نعمتیں عطا کی ہیں، جس نے مختلف انواع کے احسانات كيے ہیں اور جس نے اپنی نوازشوں کی بارش کی، وہی کامل شکر، کامل حمدوثنا اور عبودیت میں پوری کوشش کی مستحق ہے اور وہ اس چیز کی بھی مستحق ہے کہ اس کی نعمتوں سے اس کی نافرمانی پر مدد نہ لی جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وعليها وعلى الفُلْكِ تُحْمَلونَ}؛ أي: جعلها سفناً لكم في البرِّ، تحملون عليها أثقالكم إلى بلدٍ لم تكونوا بالغيهِ إلاَّ بشِقِّ الأنفس؛ كما جعل لكم السفنَ في البحر تحملكم وتحمل متاعكم قليلاً كان أو كثيراً؛ فالذي أنعم بهذه النعم وصنَّف أنواع الإحسان وأدرَّ علينا من خيره المدرار هو الذي يستحقُّ كمالَ الشُّكْر وكمال الثناء والاجتهاد في عبوديَّته وأن لا يُستعان بنعمه على معاصيهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔