تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَشَجَرَةًتَخْرُجُمِنْطُوْرِسَیْنَآءَؔ ﴾”اور وہ درخت جو طور سیناء (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔“ اور اس سے مراد زیتون کا درخت ہے یعنی جنس زیتون۔ خاص طور پر اس کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ارض شام میں اس کا خاص علاقہ ہے، نیز اس کے کچھ فوائد ہیں۔ ان میں سے بعض اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں مذکور ہیں۔ ﴿تَنْۢـبُتُبِالدُّهْنِوَصِبْغٍلِّلْاٰكِلِیْ٘نَ ﴾”اگاتا ہے وہ تیل اور سالن ہے کھانے والوں کے لیے۔“ اس میں سے زیتون کا تیل نکلتا ہے جوکہ چکنائی ہے جسے روشنی کرنے اور کھانے کے لیے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے یعنی اس کوکھانے کے لیے سالن بنایا جاتا ہے۔ اس میں اس کے علاوہ دیگر فوائد بھی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وشجرة تخرج من طور سَيْناءَ}: وهي شجرة الزيتون؛ أي: جنسها، خُصَّت بالذكر لأنَّ مكانها خاصٌّ في أرض الشام، ولمنافعها التي ذُكِرَ بعضُها في قوله: {تَنْبُتُ بالدُّهن وصِبْغٍ للآكلين}؛ أي: فيها الزيت الذي هو دهنٌ، يُسْتَعْمَلُ استعمالَه من الاستصباح به، واصطباغ للآكلين؛ أي: يجعل إداماً للآكلين وغير ذلك من المنافع.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔