تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 19

فَاَنۡشَاۡنَا لَکُمۡ بِہٖ جَنّٰتٍ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ اَعۡنَابٍ ۘ لَکُمۡ فِیۡہَا فَوَاکِہُ کَثِیۡرَۃٌ وَّ مِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿ۙ۱۹﴾
پھر ہم نے تمھارے لیے اس کے ساتھ کھجوروں اور انگوروں کے کئی باغ پیدا کیے، تمھارے لیے ان میں بہت سے لذیذ پھل ہیں اور انھی سے تم کھاتے ہو۔ En
پھر ہم نے اس سے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ بنائے، ان میں تمہارے لئے بہت سے میوے پیدا ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو
En
اسی پانی کے ذریعہ سے ہم تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کردیتے ہیں، کہ تمہارے لئے ان میں بہت سے میوے ہوتے ہیں ان ہی میں سے تم کھاتے بھی ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ پس ہم پیدا کرتے ہیں تمھارے لیے اس کے ساتھ یعنی اس پانی کے ذریعے ﴿ جَنّٰتٍ یعنی باغات ﴿ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ کھجور اور انگور کے۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان دو قسموں کا ذکر کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے درخت اور نباتات وغیرہ بھی پانی ہی سے پیدا کی ہیں کیونکہ یہ اپنی فضیلت اور منفعت کی بنا پر دیگر درختوں پر فوقیت رکھتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں عام ذکر فرمایا ﴿ لَكُمْ فِیْهَا تمھارے لیے ان (باغات) میں ﴿ فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ بہت سے میوے ہوتے ہیں، انھی میں سے تم کھاتے ہو یعنی زیتون، لیموں، انار اور سیب وغیرہ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأنشأنا لكم به}؛ أي: بذلك الماء، {جناتٍ}؛ أي: بساتين {من نخيل وأعنابٍ}: خصَّ تعالى هذين النوعين، مع أنه ينشر منه غيرهما من الأشجار؛ لفضلهما ومنافعهما التي فاقت بها الأشجار، ولهذا ذكر العامَّ في قوله: {لكم}؛ أي: في تلك الجنات فواكه كثيرةٌ منها تأكُلون من تينٍ وأتْرُجٍّ ورمانٍ وتفاح وغيرها.