تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 12

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿ۚ۱۲﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو حقیر مٹی کے ایک خلاصے سے پیدا کیا۔ En
اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے
En
یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کریمہ میں انسان کی ابتدائے تخلیق سے لے کر آخر تک مختلف اطواراور مراحل کا ذکر کیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نوع بشری کے جدامجد آدم علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ ﴿ مِنْ سُلٰ٘لَةٍ مِّنْ طِیْنٍ اسے زمین کے ست سے پیدا کیا۔ جوکہ تمام زمین سے حاصل کیا گیا تھا۔ بنابریں حضرت آدم کے بیٹے زمین کی نوعیت کے مطابق ہیں، ان میں کچھ پاک، کچھ خبیث اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں اور کچھ نرم دل، کچھ سخت دل اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فذكر ابتداء خلق أبي النوع البشري آدم عليه السلام، وأنه {من سُلالةٍ من طينٍ}؛ أي: قد سُلَّتْ وأُخِذَتْ من جميع الأرض، ولذلك جاء بنوه على قدر الأرض: منهم الطيب والخبيث وبين ذلك، والسهل والحزن وبين ذلك.