بے شک حقیقت یہ ہے کہ میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، سو تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر ہے۔
En
میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو دعا کیا کرتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو تُو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے
میرے بندوں کی ایک جماعت تھی جو برابر یہی کہتی رہی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان ﻻچکے ہیں تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم فرما تو سب مہربانوں سے زیاده مہربان ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا وہ حال بیان کیا ہے جس نے ان کو عذاب تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّهٗكَانَفَرِیْقٌؔمِّنْعِبَادِیْیَقُوْلُوْنَرَبَّنَاۤاٰمَنَّافَاغْ٘فِرْلَنَاوَارْحَمْنَاوَاَنْتَخَیْرُالرّٰحِمِیْنَ﴾”میرے بندوں میں سے کچھ لوگ تھے جو کہتے تھے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔“ پس انھوں نے ایمان کو، جو اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے، اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کی دعا کو، اس کی ربوبیت کے توسل کو، ایمان عنایت کرنے میں اس کی نوازش کو، اس کی بے پایاں رحمت کو اور احسان کو جمع کر دیا۔ یہ آیت کریمہ ضمناً اہل ایمان کے خشوع و خضوع، اپنے رب کے حضور ان کی فروتنی، ان کے خوف الٰہی اور اللہ تعالیٰ سے پر امیدی پر دلالت کرتی ہے۔پس یہ لوگوں کے سردار اور اصحاب فضیلت ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر الحال التي أوصلَتْهم إلى العذاب وقَطَعَتْ عنهم الرحمةَ، فقال: {إنَّه كان فريقٌ من عبادي يقولونَ ربَّنا آمنَّا فاغْفِرْ لنا وارْحَمْنا وأنتَ خيرُ الراحمينَ}: فجمعوا بين الإيمان المقتضي لأعمالِهِ الصالحة، والدُّعاء لربِّهم بالمغفرة والرحمة، والتوسُّل إليه بربوبيَّته ومنَّته عليهم بالإيمان، والإخبار بسعةِ رحمتِهِ وعموم إحسانِهِ، وفي ضمنِهِ ما يدلُّ على خضوعهم وخشوعهم وانكسارِهم لربِّهم وخوفهم ورجائهم؛ فهؤلاءِ ساداتُ الناس وفضلاؤهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔