تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 105

اَلَمۡ تَکُنۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَکُنۡتُمۡ بِہَا تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾
کیا میری آیتیں تم پر پڑھی نہ جاتی تھیں، تو تم انھیں جھٹلایا کرتے تھے؟ En
کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتیں تھیں (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے
En
کیا میری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت نہیں کی جاتی تھیں؟ پھر بھی تم انہیں جھٹلاتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

زجرو توبیخ اور ملامت کے طور پر ان سے کہا جائے گا: ﴿ اَلَمْ تَكُ٘نْ اٰیٰتِیْ تُ٘تْ٘لٰ٘ى عَلَیْكُمْ كيا ميری آیتوں کی تم پر تلاوت نہیں کی جاتی تھی؟ ان آیات کے ذریعے سے تمھیں دعوت دی گئی کہ تم ایمان لے آؤ اور آیات تمھارے سامنے پیش کی گئیں تاکہ تم غور کرو۔ ﴿ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ پس تم ظلم اور عناد کی وجہ سے ان آیات کو جھٹلاتے تھے حالانکہ یہ واضح آیات تھیں جو حق اور باطل پر دلالت کرتی تھیں اور اہل حق اور اہل باطل کو کھول کھول کر بیان کرتی تھیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فيُقالُ لهم توبيخاً ولوماً: {ألم تَكُنْ آياتي تُتْلى عليكم}: تُدْعَون بها لِتؤمنوا وتُعْرَضُ عليكم لِتَنْظُروا؛ {فكنتم بها تكذِّبونَ}: ظلماً منكم وعناداً، وهي آياتٌ بيناتٌ، دالاَّتٌ على الحقِّ والباطل، مبيِّناتٌ للمحقِّ والمبطل؟!