اس حال میں کہ اپنا پہلو موڑنے والا ہے، تاکہ اللہ کے راستے سے گمراہ کرے، اس کے لیے دنیا میں ایک رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں گے۔
En
(اور تکبر سے) گردن موڑ لیتا (ہے) تاکہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے گمراہ کردے۔ اس کے لئے دنیا میں ذلت ہے۔ اور قیامت کے دن ہم اسے عذاب (آتش) سوزاں کا مزہ چکھائیں گے
جو اپنی پہلو موڑنے واﻻ بن کر اس لئے کہ اللہ کی راه سے بہکادے، اسے دنیا میں بھی رسوائی ہوگی اور قیامت کے دن بھی ہم اسے جہنم میں جلنے کا عذاب چکھائیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس کے ساتھ ساتھ ﴿ ثَانِیَعِطْفِهٖ﴾ وہ گردن اکڑائے، منہ موڑ کر چلتا ہے یہ حق کے بارے میں اس کے تکبر اور مخلوق کے ساتھ اس کے حقارت آمیز رویے کے لیے کنایہ ہے۔ پس وہ اسی پر فرحاں و شاداں ہے کہ اس کے پاس غیر نافع علم ہے اور وہ حق اور اہل حق کو حقیر گردانتا ہے۔ ﴿ لِیُضِلَّ ﴾”تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے“ یعنی گمراہی کے داعیوں میں اس کا شمار ہو۔ اس آیت کریمہ کے تحت تمام ائمہ کفروضلالت آ جاتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے دنیاوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَهٗفِیالدُّنْیَاخِزْیٌ ﴾ یعنی وہ آخرت سے پہلے، اس دنیا ہی میں رسوا ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی ہے۔ آپ داعیان کفر و ضلالت میں سے جس کو بھی دیکھیں وہ تمام لوگوں کی ناراضی، لعنت، بغض اور مذمت کا اسی طرح نشانہ ہوتا ہے جیسے وہ اس کا مستحق ہوتا ہے اور ہر شخص حسب حال جزا پاتا ہے۔ ﴿ وَّنُذِیْقُهٗیَوْمَالْقِیٰمَةِعَذَابَالْحَرِیْقِ ﴾ یعنی ہم اسے جہنم کی سخت گرمی اور اس کی بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ اور یہ سب کچھ اس کے ان کرتوتوں کی وجہ سے ہے جو اس نے آگے بھیجے۔ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ دنیاوی اور اُخروی عذاب جس کا ذکر کیا گیا اور اس میں بعد کا جو معنی پایا جاتا ہے (اور وہ ہے (ذلک) کے اندر موجود لام کا معنی جو بُعد کی طرف اشارہ کے لیے وضع کیا گیا ہے) وہ اس امر پر دلیل ہے کہ کفار ہول اور قباحت کی انتہاء پر ہوں گے۔ ﴿ بِمَاقَدَّمَتْیَدٰؔكَ ﴾ یعنی اس سبب سے، جو تیرے ہاتھوں نے کفر اور معاصی کا اکتساب کیا ہے۔ ﴿ وَاَنَّاللّٰهَلَ٘یْسَبِظَلَّامٍلِّلْعَبِیْدِ ﴾ اور حقیقت امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے پہلے گناہوں کے بغیر عذاب نہیں دے گا۔
اس کا اجمالی معنی یہ ہے کہ اس کافر کو، جو ان صفات سے متصف ہے جن کا ذکر مذکورہ دو آیتوں میں گزر چکا ہے، کہا جائے گا کہ یہ عذاب اور رسوائی جس کا تو سامنا کر رہا ہے تیری افترا پردازی اور تکبر کے سبب سے ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ عادل ہے ظلم نہیں کرتا وہ مومن اور کافر، نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرتا وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومع هذا: {ثانيَ عِطْفِهِ}؛ أي: لاوي جانبه وعنقه، وهذا كنايةٌ عن كبره عن الحقِّ واحتقاره للخلق؛ فقد فرح بما معه من العلم غير النافع، واحتقر أهل الحقِّ وما معهم من الحقِّ؛ {ليضلَّ} الناس؛ أي: ليكون من دعاة الضَّلال.
ويدخل تحت هذا جميع أئمة الكفر والضلال. ثم ذَكَرَ عقوبتهم الدنيويَّة والأخرويَّة، فقال: {له في الدُّنيا خِزْيٌ}؛ أي: يفتضح هذا في الدُّنيا قبل الآخرة.
وهذا من آياتِ الله العجيبة؛ فإنَّك لا تَجِدُ داعياً من دعاة الكفر والضلال إلاَّ وله من المَقْتِ بين العالمين واللعنة والبُغض والذَّمِّ ما هو حقيقٌ به، وكلٌّ بحسب حاله. {ونذيقُهُ يومَ القيامةِ عذابَ [الحريق]}؛ أي: نذيقُه حَرَّها الشديد وسعيرها البليغ، وذلك بما قدَّمت يداه. {[وأن اللَّه ليس بظلامٍ للعبيد]}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔