ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 9

ثَانِیَ عِطۡفِہٖ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ لَہٗ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ وَّ نُذِیۡقُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۹﴾
اس حال میں کہ اپنا پہلو موڑنے والا ہے، تاکہ اللہ کے راستے سے گمراہ کرے، اس کے لیے دنیا میں ایک رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ En
(اور تکبر سے) گردن موڑ لیتا (ہے) تاکہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے گمراہ کردے۔ اس کے لئے دنیا میں ذلت ہے۔ اور قیامت کے دن ہم اسے عذاب (آتش) سوزاں کا مزہ چکھائیں گے
En
جو اپنی پہلو موڑنے واﻻ بن کر اس لئے کہ اللہ کی راه سے بہکادے، اسے دنیا میں بھی رسوائی ہوگی اور قیامت کے دن بھی ہم اسے جہنم میں جلنے کا عذاب چکھائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 8 میں تا آیت 10 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

9۔ 1 ثانی اسم فاعل ہے موڑنے والا عطف کے معنی پہلو کے ہیں یہ یجادل سے حال ہے اس میں اس شخص کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو بغیر کسی عقلی اور نقلی دلیل کے اللہ کے بارے میں جھگڑتا ہے کہ وہ تکبر اور اعراض کرتے ہوئے اپنی گردن موڑتے ہوئے پھرتا ہے جیسے دوسرے مقامات پر اس کیفیت کو ان الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے۔ (وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا) 31۔ لقمان:7) (لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ) 63۔ المنافقون:5) (اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ) 17۔ الاسراء:83)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ (اور از راہ تکبر حق سے) اپنا پہلو موڑتے ہیں تاکہ دوسروں کو اللہ کی راہ سے بہکا دیں ایسے شخص کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اس کو جلا دینے والے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

گمراہ جاہل مقلد لوگ ٭٭
چونکہ اوپر کی آیتوں میں گمراہ جاہل مقلدوں کا حال بیان فرمایا تھا یہاں ان کے مرشدوں اور پیروں کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ ’ وہ بےعقلی اور بے دلیلی سے صرف رائے قیاس اور خواہش نفسانی سے اللہ کے بارے میں کلام کرتے رہتے ہیں، حق سے اعراض کرتے ہیں، تکبر سے گردن پھیرلیتے ہیں، حق کو قبول کرنے سے بےپراوہی کے ساتھ انکار کرجاتے ہیں جیسے فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام کے کھلے معجزوں کو دیکھ کر بھی بےپراوہی کی اور نہ مانے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُودًا» ۱؎ [4-النساء:61]‏‏‏‏ ’ جب ان سے اللہ کی وحی کی تابعداری کو کہا جاتا ہے اور رسول اللہ کے فرمان کی طرف بلایا جاتا ہے تو تو دیکھے گا کہ اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ منافق تجھ سے دور چلے جایا کرتے ہیں ‘۔
سورۃ المنافقون میں ارشاد ہوا کہ «وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّـهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:5]‏‏‏‏ ’ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اور اپنے لیے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرواؤ تو وہ اپنے سرگھما کر گھمنڈ میں آ کر بے نیاز ی سے انکار کرجاتے ہیں ‘۔
لقمان رحمہ اللہ نے اپنے صاحبزادے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا آیت «وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ للنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ» ۱؎ [31-لقمان:18]‏‏‏‏ ’ لوگوں سے اپنے رخسار نہ پھلادیا کر یعنی اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر ان سے تکبر نہ کر ‘۔
اور آیت میں ہے «وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا وَلَّىٰ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِي أُذُنَيْهِ وَقْرًا فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» ۱؎ [31-لقمان:7]‏‏‏‏ ’ ہماری آیتیں سن کر یہ تکبر سے منہ پھیرلیتا ہے ‘۔
«لِيُضِلَّ» کا لام یہ تو لام عاقبت ہے یا لام تعلیل ہے اس لیے کہ بسا اوقات اس کا مقصود دوسروں کو گمراہ کرنا نہیں ہوتا اور ممکن ہے کہ اس سے مراد معاند اور انکار ہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ ہم نے اسے ایسا بداخلاق اس لیے بنا دیا ہے کہ یہ گمراہوں کا سردار بن جائے۔ اس کے لیے دنیا میں بھی ذلت وخواری ہے جو اس کے تکبر کا بدلہ۔ یہ یہاں تکبر کر کے بڑا بننا چاہتا تھا ہم اسے اور چھوٹا کر دیں گے یہاں بھی اپنی چاہت میں ناکام اور بے مراد رہے گا۔ اور آخرت کے دن بھی جہنم کی آگ کا لقمہ ہو گا۔ اسے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے کا کہ ’ یہ تیرے اعمال کا نتیجہ ہے اللہ کی ذات ظلم سے پاک ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے کہ «خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَاءِ الْجَحِيمِ ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُم بِهِ تَمْتَرُونَ» [44-الدخان:47-50]‏‏‏‏ ’ فرشتوں سے کہا جائے گا کہ اسے پکڑ لو اور گھسیٹ کر جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر آگ جیسے پانی کی دھار بہاؤ۔ لے اب اپنی عزت اور تکبر کا بدلہ لیتا جا۔ یہی وہ ہے جس سے عمربھر شک شبہ میں رہا ‘۔
حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ { ایک دن میں وہ ستر ستر مرتبہ آگ میں جل کر بھرتا ہو جائے گا۔ پھر زندہ کیا جائے گا پھر جلایا جائے گا }۔ ۱؎ [ابن ابی حاتم]‏‏‏‏ «اعاذنا الله» ۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس کے ساتھ ساتھ ﴿ ثَانِیَ عِطْفِهٖ وہ گردن اکڑائے، منہ موڑ کر چلتا ہے یہ حق کے بارے میں اس کے تکبر اور مخلوق کے ساتھ اس کے حقارت آمیز رویے کے لیے کنایہ ہے۔ پس وہ اسی پر فرحاں و شاداں ہے کہ اس کے پاس غیر نافع علم ہے اور وہ حق اور اہل حق کو حقیر گردانتا ہے۔ ﴿ لِیُضِلَّ تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے یعنی گمراہی کے داعیوں میں اس کا شمار ہو۔ اس آیت کریمہ کے تحت تمام ائمہ کفروضلالت آ جاتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے دنیاوی اور اخروی سزا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ یعنی وہ آخرت سے پہلے، اس دنیا ہی میں رسوا ہو گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک عجیب نشانی ہے۔ آپ داعیان کفر و ضلالت میں سے جس کو بھی دیکھیں وہ تمام لوگوں کی ناراضی، لعنت، بغض اور مذمت کا اسی طرح نشانہ ہوتا ہے جیسے وہ اس کا مستحق ہوتا ہے اور ہر شخص حسب حال جزا پاتا ہے۔ ﴿ وَّنُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ یعنی ہم اسے جہنم کی سخت گرمی اور اس کی بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ اور یہ سب کچھ اس کے ان کرتوتوں کی وجہ سے ہے جو اس نے آگے بھیجے۔ ﴿ ذٰلِكَ یعنی یہ دنیاوی اور اُخروی عذاب جس کا ذکر کیا گیا اور اس میں بعد کا جو معنی پایا جاتا ہے (اور وہ ہے (ذلک) کے اندر موجود لام کا معنی جو بُعد کی طرف اشارہ کے لیے وضع کیا گیا ہے) وہ اس امر پر دلیل ہے کہ کفار ہول اور قباحت کی انتہاء پر ہوں گے۔ ﴿ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰؔكَ یعنی اس سبب سے، جو تیرے ہاتھوں نے کفر اور معاصی کا اکتساب کیا ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ لَ٘یْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ اور حقیقت امر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے پہلے گناہوں کے بغیر عذاب نہیں دے گا۔
اس کا اجمالی معنی یہ ہے کہ اس کافر کو، جو ان صفات سے متصف ہے جن کا ذکر مذکورہ دو آیتوں میں گزر چکا ہے، کہا جائے گا کہ یہ عذاب اور رسوائی جس کا تو سامنا کر رہا ہے تیری افترا پردازی اور تکبر کے سبب سے ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ عادل ہے ظلم نہیں کرتا وہ مومن اور کافر، نیک اور بد کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرتا وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومع هذا: {ثانيَ عِطْفِهِ}؛ أي: لاوي جانبه وعنقه، وهذا كنايةٌ عن كبره عن الحقِّ واحتقاره للخلق؛ فقد فرح بما معه من العلم غير النافع، واحتقر أهل الحقِّ وما معهم من الحقِّ؛ {ليضلَّ} الناس؛ أي: ليكون من دعاة الضَّلال.

ويدخل تحت هذا جميع أئمة الكفر والضلال. ثم ذَكَرَ عقوبتهم الدنيويَّة والأخرويَّة، فقال: {له في الدُّنيا خِزْيٌ}؛ أي: يفتضح هذا في الدُّنيا قبل الآخرة.

وهذا من آياتِ الله العجيبة؛ فإنَّك لا تَجِدُ داعياً من دعاة الكفر والضلال إلاَّ وله من المَقْتِ بين العالمين واللعنة والبُغض والذَّمِّ ما هو حقيقٌ به، وكلٌّ بحسب حاله. {ونذيقُهُ يومَ القيامةِ عذابَ [الحريق]}؛ أي: نذيقُه حَرَّها الشديد وسعيرها البليغ، وذلك بما قدَّمت يداه. {[وأن اللَّه ليس بظلامٍ للعبيد]}.