تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
وہ جھگڑا جس کا ذکر گزشتہ سطور میں ہوا، وہ مقلد کا جھگڑا تھا اور یہ جھگڑا سرکش شیطان کے ساتھ ہے جو لوگوں کو بدعات کی طرف دعوت دیتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا: ﴿ یُّجَادِلُفِیاللّٰهِ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل اور ان کے متبعین کے ساتھ باطل دلائل سے جھگڑتا ہے تاکہ حق کو نیچا دکھائے ﴿بِغَیْرِعِلْمٍ ﴾ بغیر کسی صحیح علم کے ﴿ وَّلَاهُدًى ﴾ وہ اپنے جھگڑے میں کسی ایسے شخص کی اتباع نہیں کرتا جو اس کی راہنمائی کرے، نہ عقل کے پیچھا لگتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھے اور نہ کسی مقتدا کی اقتداء کرتا ہے جو خود ہدایت یافتہ ہو۔ ﴿ وَّلَاكِتٰبٍمُّنِیْرٍ ﴾”اور نہ کسی روشن اور واضح کتاب کی پیروی کرتا ہے۔“لہٰذا اس کے پاس کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی دلیل، یہ محض شبہات ہیں جو شیطان اس کی طرف القاء کرتا ہے۔ ﴿وَاِنَّالشَّیٰطِیْنَلَیُوْحُوْنَاِلٰۤىاَوْلِیِٰٕٓهِمْ۠لِیُجَادِلُوْؔكُمْ﴾ (الانعام؍121) ”اور شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں القاء کرتے ہیں تاکہ وہ تمھارے ساتھ جھگڑا کریں۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
المجادلة المتقدِّمة للمقلِّد، وهذه المجادلة للشيطان المريد الدَّاعي إلى البدع، فأخبر أنَّه {يجادِلُ في الله}؛ أي: يجادِلُ رسلَ الله وأتباعهم بالباطل لِيُدْحِضَ به الحقَّ، {بغير علم}: صحيح، {ولا هدىً}؛ أي: غير متَّبع في جداله هذا مَن يهديه؛ لا عقل مرشد، ولا متبوع مهتدٍ، {ولا كتابٍ منيرٍ}؛ أي: واضح بيِّن؛ [أي:] فلا له حجَّة عقليَّة ولا نقليَّة، إن هي إلاَّ شبهاتٌ يوحيها إليه الشيطان، وإن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم لِيجادِلوكم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔