تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 55

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡہُ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغۡتَۃً اَوۡ یَاۡتِیَہُمۡ عَذَابُ یَوۡمٍ عَقِیۡمٍ ﴿۵۵﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہمیشہ اس کے بارے میں کسی شک میں رہیں گے، یہاں تک کہ ان کے پاس اچانک قیامت آجائے، یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آجائے جو بانجھ (ہر خیر سے خالی) ہے۔ En
اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت ان پر ناگہاں آجائے یا ایک نامبارک دن کا عذاب ان پر واقع ہو
En
کافر اس وحی الٰہی میں ہمیشہ شک شبہ ہی کرتے رہیں گے حتیٰ کہ اچانک ان کے سروں پر قیامت آجائے یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آجائے جو منحوس ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ کفار کی حالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ کفار ہمیشہ شک و ریب میں مبتلا رہیں گے۔ اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم آپ جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں کفار اپنے عناد اور اعراض کے باعث شک کرتے رہیں گے اور وہ اسی حال میں ہمیشہ رہیں گے ﴿ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً یہاں تک کہ ان کے پاس قیامت کی گھڑی اچانک آجائے ﴿ اَوْ یَ٘اْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ یا ان کے پاس بانجھ دن کا عذاب آ جائے۔ یعنی ایسے دن کا عذاب آجائے، جس میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں اور وہ قیامت کا دن ہے۔
جب قیامت کی گھڑی ان کے پاس آجائے گی یا وہ دن آجائے گا تو ان لوگوں کو معلوم ہو جائے گا جنھوں نے کفر کیا کہ وہ جھوٹے تھے۔ وہ نادم ہوں گے جبکہ ان کی ندامت انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ کاش انھوں نے رسول پر ایمان لا کر اس کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ اس آیت میں کفار کو اپنے شک و شبہات اور افترا پردازی پر قائم رہنے سے ڈرایا گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن حالة الكفار، وأنَّهم لا يزالون في شكٍّ مما جئتَهم به يا محمدُ؛ لعنادهم وإعراضهم، وأنَّهم لا يبرحون مستمرِّين على هذه الحال، {حتَّى تأتِيَهُمُ الساعةُ بغتةً}؛ أي: مفاجأةً، {أو يأتِيَهُمْ عذابُ يوم عقيم}؛ أي: لا خير فيه، وهو يوم القيامة؛ فإذا جاءتهم الساعةُ أو أتاهم ذلك اليوم؛ علم الذين كفروا أنَّهم كانوا كاذبين، وندموا حيث لا ينفعُهم الندمُ، وأبْلِسوا، وأَيِسوا من كلِّ خيرٍ، وودُّوا لو آمنوا بالرسول واتَّخذوا معه سبيلاً. ففي هذا تحذيرُهم من إقامتهم على مِرْيَتِهِم وفِرْيَتِهِم.