تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 56

اَلۡمُلۡکُ یَوۡمَئِذٍ لِّلّٰہِ ؕ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۵۶﴾
تمام بادشاہی اس دن اللہ کی ہوگی، وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، پھر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے۔ En
اس روز بادشاہی خدا ہی کی ہوگی۔ اور ان میں فیصلہ کردے گا تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے
En
اس دن صرف اللہ ہی کی بادشاہت ہوگی وہی ان میں فیصلے فرمائے گا۔ ایمان اور نیک عمل والے تو نعمتوں سے بھری جنتوں میں ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَلْمُلْكُ یَوْمَىِٕذٍ بادشاہی اس دن۔ یعنی قیامت کے روز ﴿ لِّلّٰهِ صرف اللہ تعالیٰ کی ہوگی۔ اور اس کے سوا کسی اور کا کوئی اقتدار و اختیار نہ ہوگا۔ ﴿ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ وہ ان کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کرے گا۔ ﴿ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا پس وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جو کچھ رسول لے کر آئے، اس پر ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ اور نیک عمل كيے تاکہ ان کے ذریعے سے اپنے ایمان کی سچائی کا ثبوت بہم پہنچائیں ﴿ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ نعمت والے باغوں میں ہوں گے۔ یعنی انھیں قلب و روح اور بدن کی ایسی نعمت حاصل ہوگی جسے کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے نہ عقل اس کا ادراک کر سکتی ہے۔
﴿ وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا اور وہ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کیا ﴿ وَؔكَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا اور حق و صواب کی طرف راہ نمائی کرنے والی ہماری آیات کی تکذیب کی، ان سے روگردانی کی یا ان سے عناد رکھا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ ان کے لیے،انتہائی شدید، المناک اور دلوں تک اتر جانے والا رسوا کن عذاب ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کی آیات کی اہانت کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کواہانت آمیز عذاب میں مبتلا کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{الملكُ يومئذٍ}؛ أي: يوم القيامة {لله}: تعالى لا لغيره، {يحكُمُ بينَهم}: بحكمه العدل وقضائه الفصل. {فالذين آمنوا}: بالله ورسلِهِ وما جاؤوا به، {وعمِلوا الصالحاتِ}: ليصدِّقوا بذلك إيمانَهم {في جنَّاتِ النعيم}: نعيم القلب والروح والبدن مما لا يصفه الواصفون ولا تدركه العقول. {والذِينَ كَفَرُوا}: بالله ورسله، {وكذَّبوا بآياتنا}: الهاديةِ للحقِّ والصواب، فأعرضوا عنها أو عاندوها {فأولئك لهم عذابٌ مُهينٌ}: لهم من شدَّتِهِ وألمِهِ وبلوغِهِ للأفئدة؛ كما استهانوا برسلِهِ وآياتِهِ؛ أهانهم الله بالعذاب.