تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَلْمُلْكُیَوْمَىِٕذٍ ﴾”بادشاہی اس دن۔“ یعنی قیامت کے روز ﴿ لِّلّٰهِ﴾”صرف اللہ تعالیٰ کی ہوگی۔“ اور اس کے سوا کسی اور کا کوئی اقتدار و اختیار نہ ہوگا۔ ﴿ یَحْكُمُبَیْنَهُمْ ﴾ وہ ان کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کرے گا۔ ﴿ فَالَّذِیْنَاٰمَنُوْا ﴾ پس وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور جو کچھ رسول لے کر آئے، اس پر ایمان لائے ﴿ وَعَمِلُواالصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ اور نیک عمل كيے تاکہ ان کے ذریعے سے اپنے ایمان کی سچائی کا ثبوت بہم پہنچائیں ﴿ فِیْجَنّٰتِالنَّعِیْمِ ﴾”نعمت والے باغوں میں ہوں گے۔“ یعنی انھیں قلب و روح اور بدن کی ایسی نعمت حاصل ہوگی جسے کوئی بیان کرنے والا بیان کر سکتا ہے نہ عقل اس کا ادراک کر سکتی ہے۔
﴿ وَالَّذِیْنَكَفَرُوْا ﴾ اور وہ جنھوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کیا ﴿ وَؔكَذَّبُوْابِاٰیٰتِنَا ﴾ اور حق و صواب کی طرف راہ نمائی کرنے والی ہماری آیات کی تکذیب کی، ان سے روگردانی کی یا ان سے عناد رکھا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَلَهُمْعَذَابٌمُّهِیْنٌ ﴾ ان کے لیے،انتہائی شدید، المناک اور دلوں تک اتر جانے والا رسوا کن عذاب ہے کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین اور اس کی آیات کی اہانت کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کواہانت آمیز عذاب میں مبتلا کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{الملكُ يومئذٍ}؛ أي: يوم القيامة {لله}: تعالى لا لغيره، {يحكُمُ بينَهم}: بحكمه العدل وقضائه الفصل. {فالذين آمنوا}: بالله ورسلِهِ وما جاؤوا به، {وعمِلوا الصالحاتِ}: ليصدِّقوا بذلك إيمانَهم {في جنَّاتِ النعيم}: نعيم القلب والروح والبدن مما لا يصفه الواصفون ولا تدركه العقول. {والذِينَ كَفَرُوا}: بالله ورسله، {وكذَّبوا بآياتنا}: الهاديةِ للحقِّ والصواب، فأعرضوا عنها أو عاندوها {فأولئك لهم عذابٌ مُهينٌ}: لهم من شدَّتِهِ وألمِهِ وبلوغِهِ للأفئدة؛ كما استهانوا برسلِهِ وآياتِهِ؛ أهانهم الله بالعذاب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔