اور تاکہ وہ لوگ جنھیں علم دیاگیا ہے، جان لیں کہ وہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لے آئیں، پس ان کے دل اس کے لیے عاجز ہو جائیں اور بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے یقینا سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔
En
اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ وہ (یعنی وحی) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل خدا کے آگے عاجزی کریں۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں خدا ان کو سیدھے رستے کی طرف ہدایت کرتا ہے
اور اس لئے بھی کہ جنہیں علم عطا فرمایا گیا ہے وه یقین کر لیں کہ یہ آپ کے رب ہی کی طرف سے سراسر حق ہی ہے پھر وه اس پر ایمان ﻻئیں اور ان کے دل اس کی طرف جھک جائیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ایمان داروں کو راه راست کی طرف رہبری کرنے واﻻ ہی ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
رہا تیسرا گروہ تو یہ شیطانی القاء ان کے حق میں رحمت بن جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ ﴿ وَّلِیَعْلَمَالَّذِیْنَاُوْتُواالْعِلْمَاَنَّهُالْحَقُّمِنْرَّبِّكَ ﴾”اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا کہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے۔“ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو علم سے نواز رکھا ہے، جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کے درمیان امتیاز کرتے ہیں۔ پس وہ دونوں امور میں تفریق کرتے ہیں، ایک حق مستقر ہے، جس کو اللہ محکم کرتا ہے اور دوسرا عارضی طور پر طاری ہونے والا باطل ہے، جس کو اللہ تعالیٰ زائل کر دیتا ہے، وہ حق و باطل کے شواہد اور علامات کے ذریعے سے ان میں تفریق کرتے ہیں … تاکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے۔ وہ آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ اچھے اور برے نفوس میں چھپے ہوئے خیالات کو ظاہر کر دے۔
﴿ فَیُؤْمِنُوْابِهٖ ﴾ تاکہ وہ اس سبب سے اس پر ایمان لائیں اور معارضات و شبہات کے دور ہونے سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿ فَتُخْبِتَلَهٗقُ٘لُوْبُهُمْ﴾ اور اس کے سامنے ان کے دل جھک جائیں اور اس کی حکمت کو تسلیم کرلیں اور یہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے۔ ﴿ وَاِنَّاللّٰهَلَهَادِالَّذِیْنَاٰمَنُوْۤااِلٰىصِرَاطٍمُّسْتَقِیْمٍ ﴾ اللہ ان کو ان کے ایمان کے سبب سے راہ راست پر گامزن کرتا ہے، یعنی حق کے علم اور اس کے تقاضوں پر عمل کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ قول ثابت کے ذریعے سے اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی عطا کرتا ہے… اور یہ نوع، بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ثابت قدمی ہے۔
ان آیات کریمہ میں اس امر کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گزشتہ انبیاء و مرسلین کا طریقہ ایک نمونہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ (النجم) تلاوت فرمائی تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر پہنچے ﴿ اَفَرَءَیْتُمُاللّٰتَوَالْ٘عُزّٰىۙ۰۰وَمَنٰوةَالثَّالِثَةَالْاُخْرٰى ﴾ (النجم:53؍19،20) ”بھلا تم لوگوں نے لات اور عزی کو دیکھا اور تیسرے منات کو بھی (بھلا یہ بت معبود ہو سکتے ہیں؟“ تو شیطان نے آپ کی تلاوت کے درمیان یہ الفاظ القاء کر دیے۔ (تلک الغرانیق العلی۔ وان شفاعتھن لترتجی) ”یہ خوبصورت اور بلند مرتبہ دیویاں ہیں جن کی سفارش کی توقع کی جا سکتی ہے۔“ اس طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حزن و غم کا سامنا کرنا پڑا اور لوگ فتنہ میں مبتلا ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔(حدیث غرانیق موضوع اور باطل ہے۔ محدث عصر علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ ”نصب المجانیق فی نسف حدیث الغرانیق“ میں سند اور متن دونوں اعتبار سے حدیث غرانیق کا بطلان واضح کیا ہے۔اور اس سے قبل شیخ محمد عبدہ نے بھی اس کے موضوع ہونے کی وضاحت کی ہے، ازمحقق)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وأمَّا الطائفةُ الثالثةُ؛ فإنَّه يكون رحمةً في حقِّها، وهم المذكورون بقوله: {ولِيَعْلَمَ الذين أوتوا العلم أنَّه الحقُّ من ربِّك}: وأن الله مَنَحَهم من العلم ما به يعرفون الحقَّ من الباطل والرُّشْدَ من الغيِّ، فيفرِّقون بين الأمرين الحقِّ المستقرِّ الذي يُحْكِمُهُ الله، والباطل العارض الذي ينسَخُهُ الله، بما على كلٍّ منهما من الشواهد، وليعلموا أنَّ الله حكيمٌ يقيِّضُ بعضَ أنواع الابتلاء ليظهرَ بذلك كمائن النفوس الخيِّرة والشِّريرة؛ {فيؤمنوا به}: بسببِ ذلك، ويزدادُ إيمانُهم عند دفع المعارِضِ والشبهِ؛ {فتخبِتَ له قلوبُهُم}؛ أي: تخشع وتخضع وتسلم لحكمتِهِ، وهذا من هدايته إيَّاهم. {وإنَّ الله لهادي الذين آمنوا}: بسبب إيمانهم {إلى صراطٍ مستقيم}: علم بالحقِّ وعمل بمقتضاه؛ فيثبِّتُ الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدُّنيا وفي الآخرة، وهذا النوع من تثبيت الله لعبده.
وهذه الآيات فيها بيانُ أنَّ للرسول - صلى الله عليه وسلم - أسوةٌ بإخوانِهِ المرسلين؛ لما وَقَعَ منه عند قراءتِهِ - صلى الله عليه وسلم - {والنجم}، فلما بَلَغَ: {أفرأيتُمُ اللاتَ والعُزَّى. ومناةَ الثَّالثَةَ الأخرى}؛ ألقى الشيطانُ في قراءته: تلك الغرانيق العلى. وإنَّ شفاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجى؛ فحصل بذلك للرسول حزنٌ وللناس فتنةٌ؛ كما ذكر الله، فأنزل الله هذه الآيات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔