ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 54

وَّ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ اَنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَیُؤۡمِنُوۡا بِہٖ فَتُخۡبِتَ لَہٗ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَہَادِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۵۴﴾
اور تاکہ وہ لوگ جنھیں علم دیاگیا ہے، جان لیں کہ وہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لے آئیں، پس ان کے دل اس کے لیے عاجز ہو جائیں اور بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے یقینا سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔ En
اور یہ بھی غرض ہے کہ جن لوگوں کو علم عطا ہوا ہے وہ جان لیں کہ وہ (یعنی وحی) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل خدا کے آگے عاجزی کریں۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں خدا ان کو سیدھے رستے کی طرف ہدایت کرتا ہے
En
اور اس لئے بھی کہ جنہیں علم عطا فرمایا گیا ہے وه یقین کر لیں کہ یہ آپ کے رب ہی کی طرف سے سراسر حق ہی ہے پھر وه اس پر ایمان ﻻئیں اور ان کے دل اس کی طرف جھک جائیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ایمان داروں کو راه راست کی طرف رہبری کرنے واﻻ ہی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 53 میں تا آیت 55 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

54۔ 1 یعنی یہ القائے شیطانی، جو دراصل اغوائے شیطانی ہے، اگر اہل مشرکین اور اہل کفر و شرک کے حق میں فتنے کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف جو علم معرفت کے حال ہیں، ان کے ایمان و یقین میں اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اللہ کی نازل کردہ بات یعنی قرآن حق ہے۔ جس سے ان کے دل بارگاہ الٰہی میں جھک جاتے ہیں۔ 3: دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دنیا میں اس طرح کی ان کی راہنمائی حق کی طرف کردیتا ہے اور اس کے قبول اور اتباع کی توفیق سے بھی نواز دیتا ہے باطل کی سمجھ بھی ان کو دے دیتا ہے اور اس سے انھیں بچا بھی لیتا ہے اور آخرت میں سیدھے راستے کی راہنمائی یہ ہے کہ انھیں جہنم کے عذاب الیم و عظیم سے بچا کر جنت میں داخل فرمائے گا اور وہاں اپنی نعمتوں اور دیدار سے انھیں نوازے گا۔ اللھم اجعلنا منہم

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ اور اس لئے بھی کہ جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جان لیں کہ یہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے اور وہ ایمان لائیں اور ان کے دل اس حق کے آگے جھک جائیں اور اللہ تعالیٰ یقیناً ایمان لانے والوں کو سیدھی راہ دکھلا [83] دیتا ہے۔
[83] مشرکین کیوں سجدہ ریز ہوئے تھے؟
یعنی ایمان والے فوراً یہ سمجھ جاتے ہیں کہ فلاں بات تو فی الواقع وحی الٰہی ہے یا ہو سکتی ہے اور فلاں بات شیطان کا وسوسہ یا دھوکا ہے۔ واضح رہے کہ مندرجہ بالا واقعہ میں سے اس کا صرف آخری حصہ ہی ایسا ہے۔ جو درست ہے اور صحیح احادیث میں مذکور ہے۔ یعنی کسی موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم تلاوت فرمائی۔ اس کے اختتام پر آپ نے اور مسلمانوں نے سجدہ کیا تو پاس بیٹھے ہوئے مشرکوں نے بھی سجدہ کیا۔ ماسوائے ایک شخص (امیہ بن خلف) کے کہ اس نے کنکریوں کی ایک مٹھی اٹھائی اور اسے اپنی پیشانی سے لگا کر کہنے لگا کہ بس مجھے اتنا ہی کافی ہے۔ [بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ والنجم]
رہی یہ بات کہ قرآن شریف میں بتوں کی تعریف مذکور ہو یا یہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے ہوں، ایمان والے فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ یہ بات نا ممکنات سے ہے۔ رہا مشرکوں کا مسلمانوں کے ساتھ سجدہ ریز ہو جانا تو اس کی وجہ قرآن کی اپنی تاثیر ہے۔ جس کی بنا پر وہ قرآن کو جادو اور آپ کو جادو گر کہا کرتے تھے اور مسلمانوں پر قرآن بلند آواز سے پڑھنے پر پابندی لگا رکھی تھی کہ اس سے ان کی عورتیں اور بچے متاثر ہوتے ہیں۔ حالانکہ وہ خود بھی قرآن کی تاثیر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رہا تیسرا گروہ تو یہ شیطانی القاء ان کے حق میں رحمت بن جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ ﴿ وَّلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا کہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو علم سے نواز رکھا ہے، جس کے ذریعے سے وہ حق اور باطل، ہدایت اور گمراہی کے درمیان امتیاز کرتے ہیں۔ پس وہ دونوں امور میں تفریق کرتے ہیں، ایک حق مستقر ہے، جس کو اللہ محکم کرتا ہے اور دوسرا عارضی طور پر طاری ہونے والا باطل ہے، جس کو اللہ تعالیٰ زائل کر دیتا ہے، وہ حق و باطل کے شواہد اور علامات کے ذریعے سے ان میں تفریق کرتے ہیں … تاکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے۔ وہ آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ اچھے اور برے نفوس میں چھپے ہوئے خیالات کو ظاہر کر دے۔
﴿ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ تاکہ وہ اس سبب سے اس پر ایمان لائیں اور معارضات و شبہات کے دور ہونے سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُ٘لُوْبُهُمْ اور اس کے سامنے ان کے دل جھک جائیں اور اس کی حکمت کو تسلیم کرلیں اور یہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے۔ ﴿ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ اللہ ان کو ان کے ایمان کے سبب سے راہ راست پر گامزن کرتا ہے، یعنی حق کے علم اور اس کے تقاضوں پر عمل کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ قول ثابت کے ذریعے سے اہل ایمان کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں ثابت قدمی عطا کرتا ہے… اور یہ نوع، بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ثابت قدمی ہے۔
ان آیات کریمہ میں اس امر کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گزشتہ انبیاء و مرسلین کا طریقہ ایک نمونہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ (النجم) تلاوت فرمائی تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر پہنچے ﴿ اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَالْ٘عُزّٰىۙ۰۰وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى (النجم:53؍19،20) بھلا تم لوگوں نے لات اور عزی کو دیکھا اور تیسرے منات کو بھی (بھلا یہ بت معبود ہو سکتے ہیں؟ تو شیطان نے آپ کی تلاوت کے درمیان یہ الفاظ القاء کر دیے۔ (تلک الغرانیق العلی۔ وان شفاعتھن لترتجی) یہ خوبصورت اور بلند مرتبہ دیویاں ہیں جن کی سفارش کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حزن و غم کا سامنا کرنا پڑا اور لوگ فتنہ میں مبتلا ہوئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔(حدیث غرانیق موضوع اور باطل ہے۔ محدث عصر علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ نصب المجانیق فی نسف حدیث الغرانیق میں سند اور متن دونوں اعتبار سے حدیث غرانیق کا بطلان واضح کیا ہے۔اور اس سے قبل شیخ محمد عبدہ نے بھی اس کے موضوع ہونے کی وضاحت کی ہے، ازمحقق)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأمَّا الطائفةُ الثالثةُ؛ فإنَّه يكون رحمةً في حقِّها، وهم المذكورون بقوله: {ولِيَعْلَمَ الذين أوتوا العلم أنَّه الحقُّ من ربِّك}: وأن الله مَنَحَهم من العلم ما به يعرفون الحقَّ من الباطل والرُّشْدَ من الغيِّ، فيفرِّقون بين الأمرين الحقِّ المستقرِّ الذي يُحْكِمُهُ الله، والباطل العارض الذي ينسَخُهُ الله، بما على كلٍّ منهما من الشواهد، وليعلموا أنَّ الله حكيمٌ يقيِّضُ بعضَ أنواع الابتلاء ليظهرَ بذلك كمائن النفوس الخيِّرة والشِّريرة؛ {فيؤمنوا به}: بسببِ ذلك، ويزدادُ إيمانُهم عند دفع المعارِضِ والشبهِ؛ {فتخبِتَ له قلوبُهُم}؛ أي: تخشع وتخضع وتسلم لحكمتِهِ، وهذا من هدايته إيَّاهم. {وإنَّ الله لهادي الذين آمنوا}: بسبب إيمانهم {إلى صراطٍ مستقيم}: علم بالحقِّ وعمل بمقتضاه؛ فيثبِّتُ الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدُّنيا وفي الآخرة، وهذا النوع من تثبيت الله لعبده.

وهذه الآيات فيها بيانُ أنَّ للرسول - صلى الله عليه وسلم - أسوةٌ بإخوانِهِ المرسلين؛ لما وَقَعَ منه عند قراءتِهِ - صلى الله عليه وسلم - {والنجم}، فلما بَلَغَ: {أفرأيتُمُ اللاتَ والعُزَّى. ومناةَ الثَّالثَةَ الأخرى}؛ ألقى الشيطانُ في قراءته: تلك الغرانيق العلى. وإنَّ شفاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجى؛ فحصل بذلك للرسول حزنٌ وللناس فتنةٌ؛ كما ذكر الله، فأنزل الله هذه الآيات.