تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 33

لَکُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّہَاۤ اِلَی الۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ ﴿٪۳۳﴾
تمھارے لیے ان میں ایک مقرر وقت تک کئی فائدے ہیں، پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ اس قدیم گھر کی طرف ہے۔ En
ان میں ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے فائدے ہیں پھر ان کو خانہٴ قدیم (یعنی بیت الله) تک پہنچانا (اور ذبح ہونا) ہے
En
ان میں تمہارے لئے ایک مقرر وقت تک فائده ہے پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ خانہ کعبہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَكُمْ فِیْهَا تمھارے لیے ان میں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے گھر کو بھیجی گئی قربانیوں میں ﴿ مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّ٘سَمًّى ایک مقررہ مدت تک فائدے ہیں۔ بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے اونٹوں وغیرہ میں ایک مدت کے لیے چند فوائد ہیں جن سے ان کے مالک استفادہ کر سکتے ہیں، مثلاً: ان پر سوار ہونا اور ان کے دودھ دوہنا وغیرہ اور ایسے ہی بعض دیگر کام، جن سے ان قربانیوں کو ضرر نہ پہنچے۔ ﴿ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّ٘سَمًّى یعنی ان کے ذبح ہونے کے وقت تک فوائد ہیں۔ جب وہ مقام مقصود پر پہنچ جائیں اور وہ (البیت العتیق) بیت اللہ ہے، یعنی سارا حرم، منیٰ وغیرہ۔ پس جب ان کو ذبح کر دیا جائے تو ان کا گوشت خود بھی کھاؤ، ہدیہ بھیجو اور محتاجوں کو کھلاؤ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لكم فيها}؛ أي: في الهدايا، {منافعُ إلى أجل مسمًّى}: هذا في الهدايا المسوقة من البُدْن ونحوها؛ ينتفعُ بها أربابُها بالرُّكوب والحَلْبِ ونحو ذلك مما لا يضرُّها إلى أجل مسمًّى مقدَّر موقتٍ، وهو ذبحهُا إذا وصلت مَحِلَّها، وهو {البيت العتيق}؛ أي: الحرم كلُّه، منىً وغيرها؛ فإذا ذُبِحَتْ؛ أكلوا منها وأهْدَوْا وأطعَموا البائس الفقير.